صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 698
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۹۸ ٨٦ - كتاب الحدود النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ، اور مجھے اجازت دیں یا رسول اللہ کہ میں بیان فَقَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا فِي أَهْلِ کروں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو۔ اس هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کے گھر والوں کے پاس بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ وَإِنِّي سَأَلْتُ رِجَالًا ملازم تھا تو اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا۔ تو میں مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى نے ایک سو بکری اور ایک نوکر دے کر اس سے ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَأَنَّ اُس کو چھڑا لیا اور میں نے اہل علم میں سے کئی عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ۔ فَقَالَ وَالَّذِي لوگوں سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے پڑنے چاہیں اور اُسے نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ ایک سال کے لئے جلاوطن کرنا چاہیے اور اس اللهِ الْمِائَةُ وَالْخَادِمُ رَدُّ عَلَيْكَ وَعَلَی شخص کی بیوی کو سنگسار کرنا چاہیے۔ آپ نے سن ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامِ۔ وَيَا کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری أُنَيْسُ اغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَسَلْهَا جان ہے کہ میں کتاب اللہ کے مطابق ہی تم فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا، فَاعْتَرَفَتْ دونوں کے درمیان فیصلہ کروں گا۔ ایک سو بکری فَرَجَمَهَا ۔ اور وہ نوکر تمہیں واپس ملے گا اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے اُسے جلا وطن کر دیا جائے اور اسے انیس ! کل صبح تم اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ اور اس سے پوچھو اگر وہ اقرار کرے تو اس کو سنگسار کر دو۔ چنانچہ اس نے اقرار کیا اور حضرت اُنیس نے اس کو سنگسار کیا۔ أطراف الحديث ٦٨٥٩ : ۲۳۱۵، ۲۹۹۵، ۲۷۲۴، ٦٦٣٣، ٦٨٢٧، ٦٨٣٣، ٦٨٣٥، ٧٢٦، ٧٢٧٨۰ ،۷۲۵٦٨٤٢ ، ٧١٩٣، ٨ أطراف الحديث ٦٨٦٠ : ٢٣١٤ ، ٢٦٤٩، ٢٦٩٦، ۲۷۲٥، ٦٦٣٤ ، ٦٨٢٨، ٦٨٣١، ۷۲۷۹ ،۷۲۵۹ ،۷۱۹٦٨٣٦، ٦٨٤٣، ٤