صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 699
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۹۹ ۸۷ - كتاب الديات بسم الله الرحمن الرحيم ۸۷ - كِتَابُ الدِّيَاتِ دیتوں کے متعلق احکام شریعت امام بخاری کے علاوہ دیگر ائمہ حدیث نے اس کتاب کا نام قصاص رکھا ہے جبکہ امام بخاری نے دیات۔ علامہ بدر الدین العینی لکھتے ہیں: جس چیز پر قصاص واجب ہے اس میں مال لے کر معاف کرنا بھی جائز ہے۔ سو اس میں دیت شامل ہے۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ ۲۴۰ صفحه (۳۰) امام بخاری کا عنوان عام اور وسیع ہے۔ علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں: امام بخاری نے کتاب الدیات میں ہی قصاص کے احکام بیان کر دیتے ہیں کیونکہ قصاص میں بھی مال پر صلح کر کے قصاص کو معاف کیا جاتا ہے۔ دوسرے ائمہ نے اس کا عنوان کتاب القصاص رکھا ہے کیونکہ قتل عمد کا بدلہ قصاص ہے۔ ( فتح الباری، جزء ۱۲ صفحه ۲۳۲) الديات، دیة کی جمع ہے اور اس کا اصل مادہ و دی ہے اور یہ وَدَيْتُ الْقَتِیل سے ماخوذ ہے، یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب مقتول کے وارثوں کو خون بہا دیا جائے۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۳۰) لغوی اعتبار سے یہ مصدر ہے اس کے معنے بہہ پڑنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں ایسا مال جو کسی کا خون بہانے کی وجہ سے انسان پر واجب ہو دیت کہلاتا ہے۔ علامہ ابن ملقن لکھتے ہیں: وَدی کا اصل معنی بہنا اور نکلنا ہے اس سے لفظ وادی ماخوذ ہے کیونکہ پانی وادی کے اندر بہتا ہے۔ (التوضيح لشرح الجامع الصحیح، جلد ۳۱ صفحه (۲۹۳) علامہ ابن حجر لکھتے ہیں: اصطلاح شریعت میں دیے اس مال کو کہتے ہیں جو جان کے مقابلہ میں دیا جاتا ہے۔ ( فتح الباری، جزء ۱۲ صفحہ ۲۳۲) حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرٍ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُقْدَى وَإِمَّا أَنْ يُقِيدَ جس کا کوئی عزیز مارا جائے تو اُسے دو باتوں کا اختیار ہے۔ یا تو دیت لے یا قصاص لے حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں : كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ القِصَاصُ وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ۔ فَقَالَ اللهُ تَعَالَى لِهَذِهِ الأُمَّةِ : كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٍ (البقرة : ۱۷۹) کے بنی اسرائیل میں قصاص تھا اور ان میں دیت نہ تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے فرمایا: متقولوں کا بدلہ لینا تم پر فرض کیا گیا ہے۔ اگر (قاتل) آزاد (مرد) ہو تو اسی آزاد (قاتل) سے اور اگر (قاتل) غلام ہو تو اسی غلام ( قاتل) سے اور اگر (قاتل) عورت ہو تو اسی عورت ( قاتل) سے ، مگر جس (قاتل) کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ (تاوان) معاف کر دیا جائے۔ ۲ ا (صحيح البخاري، كتاب في النُّقَطَةِ، بَابُ كَيْفَ تُعَرَّفُ لُقَطَةٌ، روایت نمبر ۲۴۳۴) (صحیح البخاری، کتاب تفسِيرِ القُرْآنِ، بَابُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ ، روایت نمبر ۴۴۹۸)