صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 697
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۹۷ ۸۶ - كتاب الحدود يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے فضیل بن غزوان سے، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فضل نے (عبد الرحمن) بن ابی نعم سے، انہوں رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَذَفَ کی۔حضرت ابو ہریرہ نے کہا: میں نے ابوالقاسم مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ جُلِدَ صلى اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: جس يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ نے اپنے غلام لونڈی کو زنا سے متہم کیا جبکہ وہ اس بہتان سے بری ہے جو اُس نے باندھا تو قیامت کے دن اُسے کوڑے لگائے جائیں گے سوائے اس کے کہ وہ ایسا ہو جیسا اس نے کہا۔بَاب ٤٦ : هَلْ يَأْمُرُ الْإِمَامُ رَجُلًا فَيَضْرِبُ الْحَدَّ غَائِبًا عَنْهُ کیا امام کسی کو اُس شخص پر حد لگانے کا حکم دے سکتا ہے جو موجود نہ ہو وَقَدْ فَعَلَهُ عُمَرُ۔اور حضرت عمرؓ نے ایسا کیا۔٦٨٥٩ ، ٦٨٦٠: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ :۶۸۵۹-۶۸۶۰: محمد بن یوسف نے ہم سے بیان بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَن کیا کہ (سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔اُنہوں الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ نے زہری سے ، زہری نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن بنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ سے، عبید اللہ نے حضرت ابو ہریرۃ اور حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت کی۔اُن دونوں نے خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَا جَاءَ رَجُلٌ إِلَى کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ نے أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ ضرور ہی ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق اللهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ - وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ فیصلہ کرنا ہے۔اس کا مخالف کھڑا ہوا اور وہ اُس۔فَقَالَ صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ سے زیادہ سمجھدار تھا وہ بولا: اس نے سچ کہا، اللہ کی اللَّهِ وَأَذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ۔فَقَالَ کتاب کے موافق ہمارے درمیان فیصلہ فرماویں