صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 694
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۹۴ ۸۶ - کتاب الحدود بھی اسے بد نام اور آوارہ قرار دے دے تو پھر الزام لگانے والے کو صرف فتنہ پیدا کرنے کی سزادی جائینگی۔یہ بھی فقہاء نے بحث کی ہے کہ گو یہاں محسنات کا لفظ استعمال کیا گیا ہے محصنین کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا مگر اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جبکہ مردوں کے ذکر میں عورتیں شامل سمجھی جاتی ہیں تو عورتوں کے ذکر میں مرد کیوں نہ شامل سمجھے جائیں گے۔پس وہ اس آیت کو مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے سمجھتے ہیں۔پھر فقہاء نے یہ بھی کہا ہے کہ اس جگہ محصنات کا جو لفظ استعمال کیا گیا ہے اور محسنین کا نہیں کیا گیا تو اس سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ گو مرد بھی اس حکم میں شامل ہیں مگر عورتوں کی عزت کو بچانا سوسائٹی کا پہلا فرض ہے۔کیونکہ جھوٹے الزاموں سے عورت کی عزت کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے اور مرد کی عزت کو کم۔اگر چار گواہ نہ ہوں تو خواہ وہ تین ہوں ان پر حد لگے گی اور اگر چار گواہ تو ہوں لیکن فاسق ہوں تب بھی بعض فقہاء کے نزدیک گواہوں پر حد لگے گی۔لیکن میرے نزدیک حد نہیں لگے گی۔کیونکہ فاسق قرار دینے کا فیصلہ قاضی کے اختیار میں تھا اور گواہ کو اس کا کوئی علم نہیں ہو سکتا تھا کہ مجھے فاسق قرار دیا جائے گا یا نہیں۔ہاں قاضی کو تعزیر کا اختیار ہو گا یعنی حالات کے مطابق سزا دینے کا تاکہ آئندہ احتیاط رہے اور جس پر الزام لگایا گیا ہو اس کی برآت کی جائے گی۔قرآن کریم کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ قاذف کے علاوہ چار گواہ ہوں گے یعنی کل پانچ نہ کہ قاذف سمیت چار۔بعض لوگوں نے اس بارہ میں اختلاف کیا ہے کہ شہادت ایک مقام پر ہوگی یا مختلف مقامات پر لیکن میرے نزدیک یہ بحث فضول ہے۔قاضی جس طرح چاہے گواہی لے لے لیکن یہ ضروری ہے کہ گو مقام شہادت مختلف ہوں مگر جس واقعہ کی شہادت ہو وہ ایک ہی ہو تا کہ وہ احتیاط جو غلطی سے بچنے کے لئے کی گئی تھی ضائع نہ ہو جائے اور منصوبہ بازی کا ازالہ ہو جائے۔یہ حکم اس زمانے میں خوب یا درکھنے کے قابل ہے کیونکہ جس قدر بے حرمتی اور ہتک اس زمانہ میں اس کی ہو رہی ہے اور کسی حکم کی نہیں ہو رہی۔