صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 693
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۹۳ ۸۶ - کتاب الحدود کی جائے گی۔اور چاہے وہ چار گواہ ہوں پھر بھی وہ ایک ہی گواہی سمجھی جائے گی۔یہ ضروری ہے کہ ایک ہی واقعہ اور ایک ہی جگہ کے متعلق الزام لگانے والے کے علاوہ چار معینی شاہد ہوں اور دوسرے ان کی گواہی اتنی مکمل ہو کہ وہ اس فعل کی تکمیل کی شہادت دیں۔فقہاء نے لکھا ہے کہ وہ چاروں گواہ یہ گواہی دیں کہ انہوں نے مرد و عورت کو اس طرح اکٹھے دیکھا ہے جس طرح سرمہ دانی میں سلائی پڑی ہوئی ہوتی ہے۔فقہاء کے نزدیک مجرم پر حد زنا تین طرح لگتی ہے۔اوّل قاضی کے علم سے۔دوم اقرار سے۔سوم چار گواہوں کی شہادت سے۔مگر قاضی کے علم سے حد لگانا میرے نزدیک قرآن کریم کی رو سے غلط ہے کیونکہ قاضی بہر حال ایک شاہد بنتا ہے لیکن قرآن کریم کی رو سے پانچ شاہد ہونے چاہئیں۔ایک الزام لگانے والا اور چار مزید گواہ۔بلکہ میرے نزدیک اگر قاضی کو کوئی ایسا علم ہو تو اسے وہ مقدمہ سنتا ہی نہیں چاہئے بلکہ اس مقدمہ کو کسی دوسرے قاضی کے پاس بھیج دینا چاہئے اور خود بطور گواہ پیش ہو نا چاہئے۔قاضی صرف امور سیاسیہ میں اپنے علم کو کام میں لا سکتا ہے حدود شرعیہ میں نہیں۔کیونکہ حدود شرعیہ کی سزا خود خدا تعالیٰ نے مقرر کی ہوئی ہے۔اسی طرح گواہی کا طریق بھی اس کا مقرر کردہ ہے۔۔۔اگر غیر شادی شدہ عورت یا غیر شادی شدہ مرد پر کوئی قذف کرے تو قرآن کی رو سے اس پر کوئی حد نہیں ہاں قانون یا قاضی مناسب حال سزا اس کے لئے تجویز کرے گا۔گویا ایسے مقدمہ کا فیصلہ صرف اس بناء پر ہو گا کہ قاضی اس کو مجرم قرار دے دے۔اس کے بعد حکومت اس سے مجرموں والا سلوک کرے گی ورنہ نہیں۔گویا اسلام نے دونوں کو پابند کر دیا۔قاضی کو طریق شہادت سے پابند کر دیا اور حکومت کو قاضی کے فیصلہ سے پابند کر دیا۔اور اگر کوئی شخص کسی غیر محصنہ پر جس کو پہلے کبھی سزامل چکی ہو الزام لگائے تو اس کو تعزیر کی سزاملے گی۔کیونکہ پھر عزت کا سوال نہیں بلکہ فتنہ ڈالنے کا سوال ہو گا۔لیکن اگر الزام کسی ایسے شخص پر لگایا جائے جو مشہور بد نام اور آوارہ ہو اور قاضی