صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 695
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۹۵ ۸۶ - کتاب الحدود بلادلیل اور بلا وجہ اور بلاکسی ثبوت کے محض کھیل اور تماشہ کے طور پر دوسروں پر الزام لگائے جاتے ہیں اور قطعاً اس بات کی پرواہ نہیں کی جاتی کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کی کس قدر سزا مقرر کی ہوئی ہے۔ایسا الزام لگانے والے کے لئے خدا تعالیٰ نے اسی کوڑے سزا رکھی ہے جو زنا کی سزا کے قریب قریب ہے۔یعنی اس کے لئے سو کوڑے کی سزا ہے لیکن الزام لگانے والے کے لئے استی کوڑے کھا لینے کے بعد بھی یہ سزا ہے کہ کبھی اس کی گواہی قبول نہ کرو۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ سزا اور زیادہ آگے بڑھتی ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا انسان خدا تعالیٰ کے حضور فاسق ہے اور جسے خدا تعالیٰ فاسق قرار دے دے اس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ مومن اور متقی ہے یو نہی خدا نے اس کا نام فاسق رکھ دیا ہے بلکہ اس میں یہ اشارہ منخفی ہے کہ الزام لگانے والا خود اسی بدی میں مبتلا ہو جائے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ بلا وجہ کسی کا نام نہیں رکھتا بلکہ جب بھی کسی کا کوئی نام رکھتا ہے اس کے مطابق اس میں صفات بھی پیدا کر دیتا ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ نور، زیر آیت وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِارْبَعَةِ جلد ۶ صفحه ۲۶۰ ۲۶۲) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”چونکہ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ کیوں قرآن کریم نے چار گواہیوں کی شرط لگائی ہے اور کیوں دوسرے الزامات کی طرح صرف دو گواہوں پر کفایت نہیں کی۔اس لئے یہ بتاناضروری معلوم ہوتا ہے کہ دو کی بجائے چار گواہوں کی شرط لگا نا بتا تا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قسم کے واقعات میں کثرت سے جھوٹ بولا جاتا ہے۔پس اس وجہ سے زیادہ گواہوں کی شرط لگا دی گئی ہے اور پھر ایک ہی واقعہ کے متعلق چار کی شرط اس لئے لگائی کہ ایک وقت میں پانچ آدمیوں کا اکٹھا ہونا یعنی الزام لگانے والے اور چار گواہوں کا، یہ ایک ایسا امر ہے کہ اس کا جھوٹ آسانی سے کھولا جاسکتا ہے اور جرح میں ایسے لوگ اپنے قدم پر نہیں ٹھہر سکتے کیونکہ پانچ آدمیوں کا ایک جگہ پر موجود ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس کا اخفاء مشکل ہوتا ہے اور پانچ آدمی مل کر یہ جھوٹ بہت کم بنا سکتے ہیں کیونکہ