صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 46 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 46

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۶ ۸۰ - كتاب الدعوات پاخانہ کے لئے جانا ایک طبعی تقاضا اور ضرورت ہے، میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس وقت کے لئے کسی بادی اور مصلح نے کوئی تعلیم انسان کو نہیں دی مگر ہمارے ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بھی انسان کو ایک لطیف اور بیش قیمت سبق خدا پرستی کا دیا ہے جس سے آپ کے ان تعلقات محبت کا جو خدا سے آپ کے لئے تھے صاف پتالگ سکتا ہے اور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ انسان کو کس بلند رتبہ پر پہنچانا چاہتے تھے۔چنانچہ آپ نے اس وقت تعلیم دی ہے : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ (صحيح البخارى، كتاب الوضوء، باب ما يقول عند الخلاء) یعنی جس طرح پر ان گندگیوں کو تو نکالتا ہے دوسری گندگیوں سے جو انسان کی روح کو خراب کرتی ہیں بچا۔جیسے پاخانہ جاتے وقت دُعا تعلیم کی، ویسے ہی پاخانہ سے نکلتے وقت سکھایا ہے: غُفْرَانَكَ (سنن ترمذی، ابواب الطهارة، باب ما يقول إذا خرج من الخلاء) غور تو کرو کہ کس قدر تزکیہ نفس کا خیال ہے۔“ (خطابات نور، تقریر فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۰۱ء، صفحه ۱۵۸) نیز آپ نے فرمایا: ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی طرف خیال کرو کہ پاخانے جاتے وقت ایک دعا سکھائی: اللَّهُمَّ إِنِّي اَعُوذُبِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ (صحيح البخاري، کتاب الوضوء، باب ما يقول عند الخلاء، حدیث نمبر (۱۴۲) یعنی جیسے پلیدی ظاہری نکالی اسی طرح باطنی نجاست کو بھی نکالنے کی توفیق دے۔پھر جب مومن فارغ ہو جائے تو پڑھے: غُفْرَانَكَ (سنن ابن ماجه، كتاب الطهارة وسنتها، باب ما يقول اذا خرج من الخلاء، حدیث نمبر ۳۰۰) اس میں بھی یہ اشارہ تھا کہ گناہ کی خباثت سے جب انسان بچتا ہے تو اسی طرح کا روحانی چین پاتا ہے۔“ (ارشادات نور ، جلد اول صفحہ ۳۱۵،۳۱۴) بَابِ ١٦: مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ جب صبح اُٹھے تو کیا کہے ٦٣٢٣: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ :۶۳۲۳ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن۔زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ زُرَیع نے ہمیں بتایا حسین (بن ذکوان) نے ہم سے بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ بیان کیا کہ عبد اللہ بن بُریدہ نے ہمیں بتایا۔عبد اللہ