صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 45
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۵ باب ١٥: الدُّعَاءُ عِنْدَ الْخَلَاءِ بیت الخلاء کو جاتے وقت دعا کرنا ۸۰ - كتاب الدعوات ٦٣٢٢: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ حَدَّثَنَا ۶۳۲۲: محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد العزیز بن صہیب أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سے، عبد العزیز نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ دَخَلَ الْخَلَاءَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ عليه وسلم جب بیت الخلا میں جاتے تو دعا کرتے: اے اللہ میں ہر ایک گندگی سے اور گندی باتوں بِكَ مِنَ الْحُبْثِ وَالْخَبَائِثِ۔طرفه: ١٤٢ - سے تیری پناہ لیتا ہوں۔تشریح: الدُّعَاءُ عِندَ الْخَلاء: بیت الخلاء کو جاتے وقت دعا کرنا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ہر قسم کے محبت اور خبائث سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی دعا سکھائی ہے۔علامہ خطابی نے بیان کیا ہے کہ خُبث، خَبِیت کی جمع ہے اور الخبائث جمع ہے خَبِيئَة کی۔ان کے نزدیک ان الفاظ سے مذکر اور مؤنث شیاطین مراد ہیں۔جبکہ علامہ بغوی نے المحبت سے کفر اور الخبائیت سے شیاطین مراد لیے ہیں۔بعض کے نزدیک انخبت سے شیاطین اور الخبائیت سے بول و براز مراد ہے۔(ارشاد الساری للقسطلانی، جزء ۹ صفحه ۱۸۸) ابو عبید نے جنت سے مراد شرلیا ہے اور داودی نے خبائٹ سے معاصی مراد لیے ہیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ لفظ محبت سے نفس کی گندگیوں یعنی کفر سے پناہ طلب کی گئی ہے اور خبائث میں اخلاق رذیلہ سے بچنے کی دعا ہے۔کتے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دنیا کی کیا حالت تھی اور پھر کس طرح آپ نے آکر اس کی اصلاح کی اور تزکیہ نفوس فرمایا۔جو لوگ علم تاریخ سے واقف ہیں اُن پر یہ امر بڑی صفائی کے ساتھ منکشف ہو سکتا ہے اس سے بڑھ کر تزکیہ نفوس کا کیا ثبوت مل سکتا ہے کہ آپ نے کوئی موقع انسان کی زندگی میں ایسا جانے نہیں دیا جس میں خدا پرستی کی تعلیم نہ دی ہو۔میں ایک چھوٹی سی اور معمولی سی بات پیش کرتا ہوں الكواكب الدراری، کتاب الدعوات، باب الدُّعَاءُ عِندَ الْخَلَاءِ، جزء ۲۲ صفحه ۱۳۶) (مطالع الأنوار على صحاح الآثار، حرف الخاء، خبث، جزء ۲ صفحه ۴۰۶) و