صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 692
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۹۲ ۸۶ - كتاب الحدود رحيم ( النور : ٥ ، (٦) إِنَّ الَّذِينَ غفور رحیم ہے۔ جو لوگ انجان پاکدامن مؤمن يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ الْغَفِلَتِ الْمُؤْمِنَتِ لُعِنُوا عورتوں کو متہم کرتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ ملعون ہیں اور اُن کے لیے بہت ہی بڑی سزا ہے۔ عَظِيمٌ (النور: ٢٤) ٦٨٥٧ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۶۸۵۷ : عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ کیا کہ سلیمان (بن بلال) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نے ثور بن زید سے، ثور نے ابوالغیث (سالم) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ہے ، ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہ سے، حضرت اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ۔ قَالُوا يَا ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ ؟ قَالَ الشَّرْكُ بِاللهِ آپؐ نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والے گناہوں وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ سے بچتے رہو۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! وہ کیا گناہ ہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہرانا اور إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَكْلُ الرِّبَا وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الرَّحْفِ وَقَذف جادو کرنا اور اُس نفس کو قتل کرنا جس کا قتل اللہ نے حرام کیا ہے سوائے اس کے کہ جائز طور پر الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ۔ اسے قتل کیا جائے اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا أطرافه: ٢٧٦٦، ٥٧٦٤ اور جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور انجان پاکدامن مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔ تشريح ۔ رَفعُ الْمُحْصَنَاتِ : پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاء ۔۔ الآية (النور: ۵) اس آیت میں الزام زنا کی شہادت کا طریق بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ دوسرے پر زنا کا الزام لگانے والا چار گواہ لائے جو اس الزام زنا کی تصدیق کرتے ہوں۔ مگر رسول کریم صلی العلیم اور صحابہ کے اقوال سے ثابت ہے ہے۔ کہ اگر گواه مختلف جگہوں کے متعلق شہادت دے رہے ہوں تو وہ شہادت ہرگز تسلیم نہیں