صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 684
صحیح البخاری جلد ۱۵ YAM ۸۶ - کتاب الحدود اے ابن حلال اور اس کا مقصد یہ ہو کہ مخاطب ابن حلال نہیں۔تو امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک تو تعریض قذف نہیں لیکن امام مالک کے نزدیک قذف ہے اور امام احمد کے نزدیک غصہ کی حالت میں ایسا کہا گیا ہو تو قذف ہے ورنہ نہیں۔لیکن میرے نزدیک جو کلام بھی کسی ایسے رنگ میں ثابت ہو جائے کہ اس کے سننے والوں پر کسی الزام کا اثر ڈالنا مقصود ہو تو وہ قذف ہے اور اسی طرح قابل سزا ہے جس طرح آزاد آدمی اگر قذف کرے تو اس کے لئے اسی کوڑے سزا مقرر ہے۔اگر غلام قذف کرے تو اس کے لئے چالیس کوڑوں کی سزا مقرر ہے۔لیکن اس کا فیصلہ قاضی کرے گا پبلک کا کام نہیں کہ اس کا فیصلہ کرے۔" ( تفسیر کبیر، سورة نور، زیر آیت وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِارْبَعَةِ جلد ۶ صفحه (۲۶) بَاب ٤٢ : كَمِ التَّعْزِيرُ وَالْأَدَبُ سزا اور سرزنش کتنی ہو ؟ ٦٨٤٨: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۶۸۴۸: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ کہ لیث نے ہمیں بتایا۔یزید بن ابی حبیب نے مجھے أَبِي حَبِيبٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ سے بیان کیا۔یزید نے بکیر بن عبد اللہ سے، بکیر سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَن نے سلیمان بن یسار سے، سلیمان نے عبد الرحمن بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدةَ بن جابر بن عبد اللہ سے، عبد الرحمن نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔اُنہوں نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُجْلَدُ فَوْقَ کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں میں سے کسی سزا کے علاوہ دس عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍ مِنْ کوڑوں سے زیادہ کوڑے نہ لگائے جائیں۔حُدُودِ الله۔أطرافه: ٦٨٤٩ ، ٦٨٥٠- ٦٨٤٩: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِقٍ حَدَّثَنَا ۲۸۴۹: عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا کہ