صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 683 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 683

صحیح البخاری جلد ۱۵ فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ۔أطرافه: ٥٣٠٥، ٧٣١٤۔۶۸۳ ۸۶ - کتاب الحدود جواب دیا میں سمجھتا ہوں، اصل (آباء و اجداد) نے اس کو اپنے مشابہ کر لیا ہو گا۔آپ نے فرمایا تو شاید تمہارا بیٹا بھی ایسا ہی ہو کہ جس کو اصل آباء واجداد) نے اپنے مشابہ کر لیا ہو۔تشریح : مَا جَاءَ في التَّعْرِيض: اشارہ کنایہ کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ کوئی اپنی بیوی پر واضح الزام لگانے کی بجائے اشارہ کنایہ سے بیوی کے کردار پر انگلی اُٹھائے۔جیسا کہ زیر باب روایت میں ذکر ہے۔اس آدمی نے بچے کے حلیہ سے بیوی پر ناجائز تعلق کا اشارہ کیا۔ایسے شخص کو قاذف نہیں کہا جائے گا۔کیونکہ اس نے واضح الزام نہیں لگایا۔امام بخاری ترتیب ابواب سے بھی مضامین کے عقدے کھولتے ہیں۔باب ۴۰ میں جس صورتحال کا ذکر کیا ہے کہ کوئی شخص غیر مرد کو اپنی بیوی کے پاس پائے تو وہ اُسے قتل کر دے محض غیر مرد کو اپنی بیوی کے پاس پانے سے اپنی بیوی کو قتل کرنا، قانون اس کی اجازت نہیں دیتا بلکہ شک کا فائدہ ملزم کو دیتا ہے مدعی کے لیے ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔زیر باب روایت میں مدعی کا شک زیادہ قوی لگتا ہے۔جب بچے کی ولادت ہو اور اس کی وضع قطع اور حلیہ اپنے باپ سے مختلف ہو تو مدعی (خاوند) کا دعویٰ صحت کے زیادہ قریب لگتا۔تا ہے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقدمہ میں بھی ایک امکان کو پیش فرمایا کہ محض بچے کے حلیہ اور رنگ ڈھنگ سے بھی اسے غیر کا بچہ نہیں کہہ سکتے۔ممکن ہے اس نے اپنے آباء و اجداد میں سے کسی کا حلیہ لے لیا ہو اور یہ بات مشاہدات سے ثابت ہے کہ بسا اوقات ایسا ہو جاتا ہے انسان تو انسان جانوروں میں بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہیں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے اونٹوں کے متعلق یہ دریافت فرمایا کہ کیا سرخ رنگ کے اونٹوں کی نسل میں کوئی خاکی نہیں ہو سکتا۔اس نے کہا ہو سکتا ہے بلکہ ہوتا ہے فرمایا تمہارے بچے نے بھی اپنے اجداد میں سے کسی کا رنگ روپ لیا ہو گا۔پس محض شک کی بنا پر کسی کو سزا نہیں دی جاسکتی اور قانونِ عدل اسی بات کا نام ہے کہ اصل حقائق (Ground Reality) کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قذف کے متعلق فقہاء میں یہ بحث ہے کہ وہ کس طرح ہوتا ہے۔اگر صریح ہو تو اس پر حد ہے اور اگر کنایہ ہو جیسے یہ کہہ دے کہ اے فاسقہ یا اے مو اجرہ یا اے ابنة الحرام تو اسے قذف نہیں سمجھا جائے گا جب تک اس کے ساتھ نیت نہ ہو۔بلکہ عام طور پر یہ گالی سمجھی جائے گی اور اگر تعریضاً ہو جیسے کوئی کہے کہ میں تو زانی نہیں اور وہ اشار تأیہ کہنا چاہتا ہو کہ تو زانی ہے یا کسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ دے کہ