صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 44 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 44

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۴ ۸۰- كتاب الدعوات غرض خدا تعالیٰ کی ہر ایک صفت انسانی صفات سے الگ ہے اور صرف اشتراک لفظی ہے اس سے زیادہ نہیں۔اسی لئے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ (الشوری: ۱۲) یعنی کوئی چیز اپنی ذات یا صفات میں خدا تعالیٰ کے برابر نہیں۔چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۶،۲۷۵) نیز فرمایا: ازل سے اور قدیم سے خدا میں دو صفتیں ہیں۔ایک صفت تشبیہی دوسری صفت تنزیہی اور چونکہ خدا کے کلام میں دونوں صفات کا بیان کرنا ضروری تھا یعنی ایک صفت اور دوسری تنزیہی صفت اس لئے خدا نے تشبیہی صفات کے اظہار کے لئے اپنے ہاتھ آنکھ محبت غضب وغیرہ صفات قرآن شریف میں بیان فرمائے اور پھر جب کہ احتمال تشبیہ کا پیدا ہوا تو بعض جگہ لیس کمثلہ کہہ دیا اور بعض جگہ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ کہہ دیا جیسا کہ سورہ رعد جزو نمبر 1 میں بھی یہ آیت ہے اللهُ الَّذِى رَفَعَ السَّمَوتِ بِغَيْرِ عَمَلٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (الرعد:۳) (ترجمہ) تمہارا خداوہ خدا ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اور پھر اُس نے عرش پر قرار پکڑا۔اس آیت کے ظاہری معنی کے رُو سے اس جگہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پہلے خدا کا عرش پر قرار نہ تھا۔اس کا یہی جواب ہے کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں ہے بلکہ وراء الوراء ہونے کی ایک حالت ہے جو اُس کی صفت ہے پس جبکہ خدا نے زمین و آسمان اور ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور فلی طور پر اپنے نور سے سورج چاند اور ستاروں کو نور بخشا اور انسان کو بھی استعارہ کے طور پر اپنی شکل پر پیدا کیا اور اپنے اخلاق کریمہ اس میں پھونک دیئے تو اس طور سے خدا نے اپنے لئے ایک تشبیہ قائم کی مگر چونکہ وہ ہر ایک تشبیہ سے پاک ہے اس لئے عرش پر قرار پکڑنے سے اپنے تنزہ کا ذکر کر دیا۔خلاصہ یہ کہ وہ سب کچھ پیدا کر کے پھر مخلوق کا عین نہیں ہے بلکہ سب سے الگ اور وراء الوراء مقام پر ہے۔“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۷)