صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 682
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۸۲ ۸۶- کتاب الحدود کے بدلہ میں تمہیں قتل کیا جائے گا۔تم گواہ پیش کرو۔اس شخص نے کہا یا رسول اللہ ! اتنا دیوث کون ہو گا کہ وہ اپنی عورت کے پاس غیر مرد کو دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈتا پھرے۔اسلام نے ایسے شخص کی سزا قتل رکھی ہے تو کیوں نہ میں اُسے مار دوں ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے ایسا کیا تو پکڑے جاؤ گے۔اُس وقت تک زانی کو رجم کیا جاتا تھا اور وہ صحابی بھی اسے قتل کرنے کے لیے ہی اجازت چاہتے تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ تم نے اپنی عورت کے پاس غیر مرد کو دیکھا لیکن تم قاضی کے پاس جاؤ۔وہ فیصلہ کرے گا کہ تم ٹھیک کہتے ہو یا غلط۔اب یہ کتنی واضح دلیل ہے کہ اسلام نے کسی صورت میں بھی شرعی تعزیر کی جس میں قتل کرنا، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور قید کرنا شامل ہیں کسی فرد کو اجازت نہیں دی۔“ (خطبات محمود، خطبہ جمعہ فرموده ۲۶ اکتوبر ۱۹۵۱، جلد ۳۲ صفحه ۱۸۳) بَاب ٤١ : مَا جَاءَ فِي التَّعْرِيضِ اشارہ کنایہ کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں ٦٨٤٧: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۶۸۴۷: اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے ابن شہاب الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سے ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے ، سعید أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگ کا لڑکا جنا ہے۔آپ نے پوچھا: کیا تمہارے هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ نَعَمْ۔قَالَ مَا اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا: ہاں۔آپ نے فرمایا: اُن أَلْوَانُهَا؟ قَالَ حُمْرٌ۔قَالَ فِيهَا مِنْ کا رنگ کیسا ہے؟ اس نے کہا: سرخ۔آپ نے فرمایا: أَوْرَقَ؟ قَالَ نَعَمْ۔قَالَ فَأَنَّى كَانَ کیا اُن میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے ؟ اس نے کہا: ذَلِكَ؟ قَالَ أُرَاهُ عِرْقٌ نَزَعَهُ قَالَ ہاں۔آپ نے فرمایا: یہ کہاں سے آیا؟ اس نے جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ۔فَقَالَ