صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 679 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 679

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۷۹ ۸۶ - کتاب الحدود رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ ایک گھونسہ لگایا اور کہا: تم نے ایک ہار کے لئے أَوْجَعَنِي۔۔نَحْوَهُ لَكَزَ وَوَكَزَ وَاحِدٌ لوگوں کو روک دیا؟ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کی وجہ سے ایسی بے حس و حرکت تھی گویا مجھ پر موت دار د تھی حالانکہ اس سے مجھے درد ہوئی۔لگر اور وگر ایک ہی ہے۔أطرافه: ٣٣٤، ۳۳٦، ۳۶۷۲، ۳۷۷۳، ٤٥٨٣، ٤٦٠٧ ، ٤٦٠٨، ٥١٦٤ ، ٥٢٥٠، ٥٨٨٢، ٦٨٤٤۔بَاب ٤٠ : مَنْ رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے اور وہ اس کو مار ڈالے ٦٨٤٦ : حَدَّثَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا :۶۸۴۶ موسیٰ ( بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ کہ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔عبد الملک (بن عمیر) وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ عَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ نے ہم سے بیان کیا۔عبد الملک نے حضرت مغیرہ قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا کے منشی وزاد سے، وزاد نے حضرت مغیرہ سے مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ روایت کی۔وہ کہتے تھے کہ حضرت سعد بن عبادہ مُصْفَحٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى الله نے کہا: اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ دیکھوں تو میں تلوار کی دھار سے اس کا کام تمام کر دوں۔تو اُن کی یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: کیا تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو ؟ میں اُن سے زیادہ غیرت مند ہوں اور سَعْدٍ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللهُ أَغْيَرُ مِنِّي۔طرفه: ٧٤١٦۔اللہ مجھ سے بھی بڑھ کر غیرت مند ہے۔تشريح۔مَنْ رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ: جواپنی بیوی کے ساتھ سی مر د کو دیکھے اور وہ اس کو مار ڈالے۔غیرت کے نام پر قتل معاشرے کا بہت پریشان کن اور سنگین مسئلہ ہے۔غیرت کے جوش سے جذبات کا تلاطم بے حد اور بے انت ہوتا ہے جبکہ قانون کی بنیاد جذبات پر نہیں بلکہ حقائق پر ہوتی ہے۔اسلام کا قانون جزا سزا اس قدر مضبوط کامل اور جامع ہے کہ جذبات کے بڑے سے بڑے طوفان کے آگے سد سکندری بن