صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 680
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۸۰ ۸۶ - کتاب الحدود جاتا ہے اور اگر یہ قانون جزا سزا ہر شخص اپنے ہاتھ میں لے کر جو چاہے فیصلہ کرے اور جس طرح چاہے اس پر عمل کرے تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس ضرب المثل کے مطابق طاقتور ظلم و تعدی میں تمام حدیں پار کر جائے گا اور کمزور بے سہارا اور مظلوم ہمیشہ کے لیے جبر و استبداد کا نشانہ بنتے رہیں گے۔زیر باب حدیث میں اس امر کو نہایت لطیف اور پر حکمت انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ تم اس مرد کی غیرت پر حیران اور متعجب ہو جو اپنی بیوی کے پاس محض کسی غیر مرد کی موجودگی کو ہی غیرت کے نام پر قتل کرنے کے لیے سب سے بڑا جواز سمجھتا ہے اور اس قدر پر جوش ہے کہ کسی گواہی اور شہادت کو درخور اعتناء نہیں سمجھتا اور اپنے اس جرم کو جرم نہیں بلکہ اپنی غیرت کا طبعی تقاضا سمجھتا ہے مگر خدا اور اس کا رسول اس سے بہت زیادہ غیرت رکھنے کے باوجود اس مرد غیور کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتے۔تاہم اس روایت کو پڑھنے والے کا ذہن اس سوال کو تلاش کرتا دکھائی دیتا ہے کہ وہ مرد جو اپنی بیوی کے پاس غیر مرد کو پائے کیا وہ گواہوں کی تلاش میں سرگرداں پھرتا رہے اور قانون کا احترام کرتے ہوئے اپنی غیرت کو قانون کی بھینٹ چڑھا دے جبکہ قانون شہادتوں کے نہ ہونے یا نا مکمل شہادتوں کی وجہ سے اس کے خلاف ڈگری دے دے تو وہ تو جیتے جی مر گیا اور اس کی غیرت قانون کی بھینٹ چڑھ گئی۔کیا اسے دین فطرت کہتے ہیں؟ کیا یہی اسلام کی تعلیم ہے ؟ تو اس بارہ میں قرآن کریم ایک اور راہ دکھاتا ہے اور اس مرد غیور کے جذبات کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس مقدمہ میں میاں بیوی میں لعان کا طریق جاری کرتا ہے۔جیسا کہ سورۃ نور میں فرمایا: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَدَتِ بِاللهِ إِنَّهُ لَينَ الصُّدِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَذِبِينَ (النور: ۷، ۸) اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگاتے ہیں اور ان کے پاس سوائے اپنے وجود کے اور کوئی گواہ نہیں ہو تا تو ان میں سے ہر شخص کو ایسی گواہی دینی چاہیے جو اللہ کی قسم کھا کر چار گواہیوں پرمشتمل ہو اور (ہر گواہی میں) وہ یہ کہے کہ وہ راست بازوں میں سے ہے۔اور پانچویں (گواہی) میں (کہے ) کہ اس پر خدا کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص رسول کریم ملایم کے پاس آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو اس حالت میں دیکھے تو کیا جائز ہے کہ وہ اس مرد کو مار دے۔آپ نے فرمایا نہیں۔اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ قاتل ہو گا۔یہ قاضی کا حق ہے۔۔۔اگر کوئی شخص خود ہی فیصلہ کر کے کسی کو قتل کرے گا تو خواہ مقتول واقعی مجرم ہو پھر بھی ہم قتل کرنے والے کو قاتل سمجھ کر اسے قتل کریں گے۔تو جہاں سزا معین ہے ایسی معین کہ اس میں تبدیلی کا امکان ہی نہیں۔اس میں بھی شریعت نے خود بخود فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ رسول کریم صلی ا ہم نے