صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 678 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 678

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۷۸ ٨٦ - كتاب الحدود يَّمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ فَإِنْ أَبَى سے گزرنا چاہے تو اس کو ہٹائے اور اگر وہ نہ مانے فَلْيُقَاتِلْهُ وَفَعَلَهُ أَبُو سَعِيدٍ۔ تو اُس کا مقابلہ کرے اور حضرت ابو سعید نے ایسا ہی کیا۔ ٦٨٤٤ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۶۸۴۴ : اسماعیل ( بن ابی اویس) نے ہم سے بیان مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے عبد الرحمن عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَ بن قاسم سے ، عبد الرحمن نے اپنے باپ سے ، اُن أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَرَسُولُ اللهِ کے باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔ آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ فرماتی تھیں: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور عَلَى فَخِذِي فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر میری ران پر اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ رکھا ہوا تھا اور کہنے لگے : تم نے رسول اللہ صلی اللہ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ فَعَاتَبَنِي وَجَعَلَ علیہ وسلم اور لوگوں کو روکے رکھا ہے حالانکہ وہ کسی يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي وَلَا يَمْنَعُنِي پانی کے پاس نہیں اور اُنہوں نے مجھے ملامت کی۔ مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ اور میرے پہلو میں اپنے ہاتھ سے کونچ مارنے لگے اور مجھے ملنے سے صرف یہی بات روکتی تھی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے تو اس وقت اللہ نے تمیم کی آیت نازل کی۔ أطرافه: ٣٣٤، ٣٣٦ ، ۳٦٧٢ ، ۳۷۷۳ ، ٤٥۸۳ ، ٤٦٠٧ ، ٤٦٠٨، ٥١٦٤ ، ٥٢٥٠، ٥٨٨٢، ٦٨٤٥۔ ٦٨٤٥ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ۶۸۴۵ : يحي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو أَنَّ (عبد الله بن وہب نے مجھے بتایا۔ عمرو نے مجھے عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ عَنْ خبر دی که عبد الرحمن بن قاسم نے اُنہیں بتایا۔ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ عبد الرحمن نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے فَلَكَزَنِي لَكْرَةً شَدِيدَةً وَقَالَ حَبَسْتِ حضرت عائشہ سے روایت کی۔ آپؐ فرماتی تھیں: النَّاسَ فِي قِلَادَةِ؟ فَبِي الْمَوْتُ لِمَكَانِ حضرت ابو بکر سامنے سے ت ابو بکر سامنے سے آئے اور مجھے زور سے