صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 677
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۷۷ ۸۶ - کتاب الحدود ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا۔أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِیبُ تو میں نے ایک سو بکری اور اپنی ایک لونڈی دے عَامٍ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ کر اُس سے اس کو چھڑالیا۔پھر میں نے اہل علم سے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا پوچھا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا کوڑے ہی پڑنے تھے اور ایک سال کے لئے شہر بِكِتَابِ اللهِ أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ سے نکالا جانا تھا اور سنگسار تو اس کی عورت کو کیا فَرَةٌ عَلَيْكَ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ جاتا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں کتاب اللہ کے موافق ہی تمہارے درمیان فیصلہ کروں گا۔تمہاری بکریاں اور لونڈی جو ہیں تو وہ تمہیں واپس دی جائیں اور آپ نے اس کے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لئے اس کو جلا وطن کر دیا اور آپ نے انیس اسلمی کو حکم دیا کہ وہ دوسرے شخص کی عورت کے پاس آئے اگر وہ اقرار کرلے تو پھر اس کو سنگسار کرو۔عَامًا وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيُّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا۔چنانچہ اس نے اقرار کیا اور انہیں نے اس کو سنگسار کیا۔أطراف الحديث :٦٨٤٢: ۲۳۱۵، ۲۶۹۵، ۲۷۲۴، ٦٦٣٣، ٦٨٢٧، ٦٨٣٣، ٦٨٣٥، -٧٢، ٧٢٧٨۶۰ ،۷۲۵۸ ،۷۱۹۳ ،٦٨٥٩ أطراف الحديث ٦٨٤٣ ٢٣١٤ ، ٢٦٤٩، ٢٦٩٦، ٢٧٢٥، ٦٦٣٤، ٦٨٢٨، ٦٨٣١، ٦٨٣٦ ، ٦٨٦٠، ۷۱۹٤، ۷۲۵۹، ۷۲۷۹۔بَاب :۳۹: مَنْ أَدَّبَ أَهْلَهُ أَوْ غَيْرَهُ دُونَ السُّلْطَانِ جس نے اپنی بیوی وغیرہ کو حاکم کے بغیر خود ہی ادب سکھانے کے لئے سزادی وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اور حضرت ابوسعید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ کیا اگر وہ نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی اس کے سامنے