صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 676 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 676

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۶ - کتاب الحدود ہی ہوں گے سوائے اس کے کہ adultery کا عادی ہو اور لڑکیوں کو خراب کرے اس کو بے شک stoning کا مستحق سمجھیں گے۔مگر شرائط وہی ہیں کہ چار عینی گواہ ہوں جو ملنے قریباً ناممکن ہوتے ہیں۔“ (فرمودات مصلح موعودؓی صفحہ ۲۸۴،۲۸۳) باب ۳۸ : إِذَا رَمَى امْرَأَتَهُ أَوِ امْرَأَةَ غَيْرِهِ بِالزِّنَا عِنْدَ الْحَاكِمِ وَالنَّاسِ اگر حاکم اور لوگوں کے پاس کسی نے اپنی بیوی کو یا دوسرے کی بیوی کو زنا سے متہم کیا هَلْ عَلَى الْحَاكِمِ أَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهَا تو کیا حاکم کا فرض ہے کہ اس عورت کو بلا بھیجے اور فَيَسْأَلَهَا عَمَّا رُمِيَتْ بِهِ؟ اُس سے اس تہمت کے متعلق پوچھے جس سے اس کو متہم کیا گیا ؟ ٦٨٤٣،٦٨٤٢: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ :۶۸۴۳٬۶۸۴۲: عبد اللہ بن یوسف نے ہم يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ابن شہاب سے ، ابن شہاب عبید اللہ بن عبد اللہ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بن بن عتبہ بن مسعود سے، عبید اللہ نے حضرت ابوہریرہؓ خَالِدٍ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا اور حضرت زید بن خالد سے روایت کی کہ اُن إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دونوں نے اُن کو بتایا کہ دو شخص رسول اللہ صلی اللہ فَقَالَ أَحَدُهُمَا اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑ الائے اور اُن میں سے وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا أَجَلْ يَا ایک نے کہا کہ کتاب اللہ کے موافق آپ ہمارے درمیان فیصلہ فرماویں اور دوسرے نے کہا: اور وہ رَسُولَ اللهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ وَأَذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ تَكَلَّمْ قَالَ كتاب اللہ کے موافق ہمارے درمیان فیصلہ فرماویں إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا قَالَ اور مجھے اجازت دیں کہ بیان کروں آپ نے فرمایا: مَالِكٌ وَالْعَسِيفُ الْأَجِيرُ فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ بیان کرو۔اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کے پاس فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ ملازم تھا۔مالک نے کہا: عسیف کے معنی ہیں فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لي مزدور۔اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا۔لوگوں ان دونوں میں زیادہ سمجھدار تھا۔ہاں یا رسول اللہ !