صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 675 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 675

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۷۵ ۸۶ - کتاب الحدود فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ لَهُ تَو اُن میں سے ایک نے رجم کے حکم پر اپنا ہاتھ رکھ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ دیا اور اس کے ماقبل اور ما بعد پڑھا۔حضرت يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجُمِ، قَالُوا صَدَقَ عبد الله بن سلام نے اُس سے کہا: اپنا ہاتھ اُٹھاؤ۔يَا مُحَمَّدُ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَأَمَرَ بِهِمَا اُس نے اپنا ہاتھ اُٹھایا تو کیا دیکھا کہ اُس میں رجم کا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کم ہے۔یہودیوں نے کہا: اے محمد ! (عبد اللہ بن فَرُحِمَا فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَحْنِي عَلَى سلام) سچے ہیں۔تورات میں رجم کا حکم ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دونوں کے الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ۔متعلق حکم دیا اور انہیں سنگسار کیا گیا۔(حضرت عبد اللہ کہتے ہیں : میں نے اُس مرد کو دیکھا کہ وہ اس عورت پر جھک جاتا تھا اور اُسے پتھروں سے بچاتا تھا۔أطرافه (۱۳۲۹، 3635، 4556، ۶۸۱۹، ۷۳۳۲، ٧٥٤٣۔تشریح: ريح : أَحْكَامُ أَهْلِ اللَّمَّةِ وَإِحْصَاتُهُمْ إِذَا زَنَوْا وَرُفِعُوا إِلَى الْإِمَامِ : ذمیوں کے متعلق احکام اگر وہ زنا کریں اور امام کے سامنے پیش کئے جائیں اور ان کو بدکاری سے بچانا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ زنا کی سزا رجم کا ذکر قرآن مجید میں نہیں۔احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سزا کو دیا۔آیا اس حدیث کو خلاف قرآن سمجھ کر ترک کر دیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کی کیا تشریح کریں ؟ اس پر آپ نے فرمایا: احادیث ہر زمانہ کے متعلق ہیں۔سزائے رجم کے متعلق احادیث قرآنی احکام نازل ہونے سے پہلے کی ہیں۔رسول کریم ملی کمی کا طریق تھا کہ جب تک قرآن کریم میں معین احکام نازل نہ ہوئے آپ تورات کے احکام کی تعمیل کرواتے تھے اور تورات میں رجم موجود ہے۔پس اب رجم کی سزا اسلام میں نہیں کوڑوں کی سزا ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہے۔ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ stoning اسلام میں جائز نہیں۔پرانے علماء کا عقیدہ تھا کہ سٹوننگ جائز ہے۔حدیثوں میں مذکور ہے لیکن قرآن اس کے خلاف ہے۔ہمارے نزدیک شادی شدہ کی سزا کوڑے