صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 43
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۴۳ ٨٠ - كتاب الدعوات قیام لیل آپ پر فرض تھا جب کبھی بعض راتوں میں قیام لیل آپ سے رہ گیا ہے تو آپ نے اس کو بعد طلوع آفتاب ادا فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن شریف یاد کرنے والوں اور قیام لیل کرنے والوں کو اشراف امتی فرمایا ہے۔ شرف کے لغوی معنے بلند؟ بلندی کے ہیں۔“ (حقائق ہیں۔ حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۲۳۳،۲۳۲) يَتَنَزَّلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى : شارحین نے يَتَنَالُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعالی پر بہت طویل بحثیں کی ہیں اور ابن تیمیہ اور ان کے ہم خیال لوگوں کے اس نظریہ کی تردید کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے جسمانی نزول کے قائل ہیں۔ یہ بحث قرآن کریم اور احادیث کے محاورہ کلام کو نہ سمجھنے اور اللہ تعالیٰ کی صفات تنزیہہ اور تشبیہ کے عدم ادراک کا نتیجہ ہے۔ قرآن کریم اور احادیث میں اللہ تعالیٰ کے لئے وجہ (چہرہ) ہاتھ ، پاؤں و دیگر ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو استعارہ کے رنگ میں بیان ہوئے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اس کی تمام صفات اُس کی ذات کے مناسب حال ہیں انسان کی صفات کی مانند نہیں اور اُس کی آنکھ وغیرہ جسم اور جسمانی نہیں اور اُس کی کسی صفت کو انسان کی کسی صفت سے مشابہت نہیں مثلاً انسان اپنے غضب کے وقت پہلے غضب کی تکلیف آپ اُٹھاتا ہے اور جوش و غضب میں فوراً اُس کا سر در دور ہو کر ایک جلن سی اُس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور ایک مادہ سوداوی اُس کے دماغ میں چڑھ جاتا ہے اور ایک تغیر اس کی حالت میں پیدا ہو جاتا ہے مگر خدا ان تغیرات سے پاک ہے اور اس کا غضب ان معنوں سے ہے کہ وہ اس شخص سے جو شرارت سے باز نہ آوے اپنا سایہ حمایت اٹھا لیتا ہے اور اپنے قدیم قانون قدرت کے موافق اس سے ایسا معاملہ کرتا ہے جیسا کہ ایک غضبناک انسان کرتا ہے لہٰذا استعارہ کے رنگ میں وہ معاملہ اُس کا غضب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ایسا ہی اُس کی محبت انسان کی محبت کی طرح نہیں کیونکہ انسان غلبہ محبت میں بھی دُکھ اٹھاتا ہے اور محبوب کے علیحدہ اور علیحدہ اور جدا ہونے سے اُس کی جان کو تکلیف پہنچتی ہے مگر خدا ان تکالیف سے پاک ہے ایسا ہی اُس کا قرب بھی انسان کے قرب کی طرح نہیں کیونکہ انسان جب ایک کے قریب ہوتا ہے تو اپنے پہلے مرکز کو چھوڑ دیتا ہے مگر وہ باوجود قریب ہونے کے دور ہوتا ہے اور باوجود دور ہونے کے قریب ہوتا ہے۔ ا (شرح صحيح البخاری لابن العثيمین، جزء ۸ صفحه ۱۷۴ تا ۱۸۲)