صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 668 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 668

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۶۸ باب ۳۲: الْبِكْرَانِ يُجْلَدَانِ وَيُنْفَيَانِ ۸۶ - کتاب الحدود ( زنا کرنے والے ) کنوارے مرد اور کنواری عورت دونوں کو کوڑے مارے جائیں اور وطن سے نکالا جائے الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلّ وَاحِدٍ (اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) زناکار مرد اور زناکار مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذُكُم بِهِمَا عورت اُن دونوں میں سے ہر ایک کو تم سو کوڑے رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ مارو اور اللہ کی جزا سزا کے جاری کرنے میں تمہیں بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدُ عَذَابَهُمَا اُن کے متعلق ترس نہ آئے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ الزَّانِي لَا پر ایمان رکھتے ہو۔اور چاہیے کہ مومنوں میں سے يَنكِحُ إِلا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةٌ وَ الزَّانِيَةُ ایک گروہ ان کی سزا کو دیکھے۔زانی بد کار عورت یا مشرک عورت سے ہی نکاح کرتا ہے اور زانیہ سے بھی زانی یا مشرک ہی نکاح کرتا ہے اور یہ مؤمنوں لا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ) (النور: ٣، ٤) پر حرام کیا گیا ہے۔ابن عیینہ نے کہا: رَأْفَةٌ سے مراد قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ رَأْفَةٌ فِي إِقَامَةِ الْحَدِ۔ہے کہ سزاؤں کے جاری کرنے میں رحم نہ کھاؤ۔٦٨٣١ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۶۸۳۱: مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عبد العزيز بن ابی سلمہ ) نے ہمیں بتایا۔ابن شہاب عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْن عَبْدِ اللهِ بن عُتْبَةَ نے ہمیں خبر دی۔ابن شہاب نے عبید اللہ بن عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِي قَالَ سَمِعْتُ عبد اللہ بن عقبہ سے، عبید اللہ نے حضرت زید بن النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ خالد جہنی سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصَنْ جَلْدَ مِائَةٍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ اس شخص کے متعلق جس نے زنا کیا اور وہ شادی شدہ نہ ہو ایک وَتَغْرِيبَ عَامٍ۔أطرافه: ٢٣١٤، ٢٦٤٩، ٢٦٩٦، سو کوڑے لگائے جانے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کرنے کا حکم دیتے تھے۔،٦٦٣٤، ٦٨٢٨، ٦٨٣٦ ،٦٨٤٣ ، ٦٨٦٠ -۷۲۷۹ ،۷۲۰۹ ،۷۱۹۹