صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 666
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۶۶ ۸۶ - کتاب الحدود عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرِ اللَّهُمَّ تھا جو تم نے اپنی فضیلت کے متعلق بیان کیا ہے تو إِلَّا أَنْ تُسَوِلَ إِلَيَّ نَفْسِي عِنْدَ تم اس کے اہل ہو اور یہ خلافت سوائے قریش کے الْمَوْتِ شَيْئًا لَا أَجِدُهُ الْآنَ، فَقَالَ اس خاندان کے اور کسی کے لئے ہرگز تسلیم نہیں کی قَائِلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَا جُدَيْلُهَا جائے گی۔نسب اور خاندان کے لحاظ سے وہ تمام الْمُحَكَّكُ وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَبُ، مِنَّا عربوں میں سب سے اعلیٰ ہیں اور میں نے تمہارے أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لئے ان دو شخصوں میں سے ایک کو پسند کیا ہے ان فَكَثرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ دونوں میں سے جس کی تم چاہو بیعت کر لو۔یہ کہہ حَتَّى فَرِقْتُ مِنَ الِاخْتِلَافِ فَقُلْتُ کر انہوں نے میرا ہاتھ اور ابوعبیدہ بن جراح کا ابْسُطُ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَبَسَطَ يَدَهُ ہاتھ پکڑا اور وہ ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔فَبَايَعْتُهُ وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ ثُمَّ اِس بات کے سوا میں نے اور کوئی بات نا پسند نہیں کی جو انہوں نے کہی۔اللہ کی قسم ! یہ حال تھا کہ اگر مجھے آگے بڑھا کر میری گردن اڑا دی جاتی تاکہ یہ موت مجھے کسی گناہ کے قریب نہ پھٹکنے دے تو مجھے یہ بات زیادہ پسند تھی اس سے کہ میں ایسی قوم کا سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ عُمَرُ وَإِنَّا امیر بنوں کہ جس میں حضرت ابوبکر ہوں۔یہ اور وَاللهِ مَا وَجَدْنَا فِيمَا حَضَرْنَا مِنْ بات ہے کہ میرا نفس موت کے وقت میرے أَمْرٍ أَقْوَى مِنْ مُّبَايَعَةِ أَبِي بَكْرٍ سامنے کوئی اور بات خوبصورت کر کے پیش کرتا خَشِينَا إِنْ فَارَقْنَا الْقَوْمَ وَلَمْ تَكُنْ جس کو اب میں اپنے اندر نہیں پارہا۔اس پر انصار بَيْعَةٌ أَنْ يُبَايِعُوا رَجُلًا مِنْهُمْ بَعْدَنَا میں سے ایک کہنے والا بول پڑا۔میں اس معاملہ فَإِمَّا بَايَعْنَاهُمْ عَلَى مَا لَا نَرْضَی میں وہ لکڑی ہوں جس سے کھجلی کی جاتی ہے اور وہ وَإِمَّا نُخَالِفُهُمْ فَيَكُونُ فَسَادٌ فَمَنْ پھلدار کھجور ہوں جس کے اردگرد باڑ لگی ہو۔اے بَايَعَ رَجُلًا عَلَى غَيْرِ مَشُورَةٍ قریش کی جماعت ! ہم میں سے بھی ایک امیر ہو اور مِّنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يُتَابَعُ هُوَ تم میں سے بھی ایک امیر ہو۔اس پر بہت شور مچا اور بَايَعَتْهُ الْأَنْصَارُ۔وَنَزَوْنَا عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَقُلْتُ قَتَلَ اللهُ