صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 42
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۲ ٨٠ - كتاب الدعوات صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَنَزَّلُ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب جو بہت برکتوں رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى والا ہے اور بہت ہی بلند ہے ہر رات نچلے آسمان پر سَمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ اُترتا ہے اُس وقت جبکہ رات کی آخری تہائی باقی الْآخِرُ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي رہتی ہے۔ فرماتا ہے: کون مجھ سے دعا کرے گا کہ فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ میں اُس کی دعا قبول کروں؟ کون مجھ سے مانگے گا مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ۔ أطرافه: ١١٤٥، ٧٤٩٤۔ کہ میں اُس کو دوں ؟ کون مجھ سے استغفار کرے گا کہ میں اُس پر پردہ پوشی کرتے ہوئے اُس سے در گزر کروں؟ تشریح : الدُّعَاءُ نِصْفَ اللَّيْلِ : آدھی رات کو دعا کرنا۔ : آدھی رات کو دعا کرنا۔ شارحین نے امام بخاری کے عنوان باب الدعا نصف اللیل اور زیر باب حدیث میں ثلث اللیل کے تعارض کی تطبیق کی ہے کہ امام بخاری نے عنوان باب قرآن کریم کی آیت قم اليْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِصْفَة - سے استدلال کرتے ہوئے قائم کیا ہے بعض نے کہا امام بخاری کا طریق ہے وہ ایسی روایات کو جو دیگر مستند کتب حدیث میں ہیں مگر امام بخاری کی شرائط پر پوری نہیں اتریں وہ ان کو صحیح بخاری میں متن حدیث کے طور پر درج نہیں کرتے مگر عنوان باب کے طور پر ان کا اثبات کرتے ہیں اور یہی صورت یہاں ہے۔ ( فتح الباری، جزءا ا صفحہ ۱۵۵) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُمِ الَيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِصْفَةَ أَوِ انْقُصُ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا (المزمل: ۳-۵) یعنی راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر عبادت کر۔ جس سے ہماری مراد یہ ہے کہ رات کا اکثر حصہ عبادت میں گزارا کر یعنی اُس کا نصف، یا نصف سے کچھ کم کر دے، یا اس پر کچھ اور بڑھا دے۔ اور قرآن کو خوش الحانی سے پڑھا کر۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : چونکہ راتیں بڑھتی گھٹتی رہتی ہیں۔ اس لئے متوسط راتوں میں نصف شب سے اور چھوٹی راتوں میں نصف سے کم کر کے اور بڑی راتوں میں نصف سے زیادہ بھی قیام کرنے کے لئے ارشاد فرمایا اور چونکہ ایک حکم قطعی نہیں ہے۔ بلکہ دو جگہ آؤ، آؤ فرما کر اختیار دیا ہے۔ اس لئے طبیعت کے نشاط پر بھی اس قیام کو حوالے کر دیا گیا ہے۔ یعنی چھوٹی راتوں میں بحالت نشاط اگر قیام زیادہ کرلے اور بڑی راتوں میں بوجہ عدم نشاط طبیعت اگر قیام کم کرے تو یوں بھی اختیار ہے۔ مگر چونکہ تم بصیغہ امر ہے۔ اس لئے