صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 663
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۶۳ ۸۶ - کتاب الحدود كَانَ الْحَبَلُ أَوِ الاِعْتِرَافُ ثُمَّ إِنَّا كُنَّا نہایت ہی ضروری ہے جس نے زنا کیا بشرطیکہ وہ نَقْرَأُ فِيمَا نَقْرَأُ مِنْ كِتَابِ اللهِ أَنْ لَا شادی شدہ ہو ، مرد ہوں یا عورتیں۔بشرطیکہ ثبوت تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ بہم پہنچ جائے یا حمل ہو یا اقرار ہو۔پھر کتاب اللہ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ أَوْ إِنَّ كُفْرًا میں جو ہم پڑھا کرتے تھے اس میں یہ بھی پڑھا بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ أَلَا ثُمَّ کرتے تھے کہ اپنے باپ دادوں سے روگردانی نہ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرو کیونکہ یہ تمہاری ناشکری ہو گی کہ اپنے باپ دادوں سے روگردانی کرو۔یا کہا کہ یقینا یہ تمہاری قَالَ لَا تُطْرُونِي كَمَا أُطْرِيَ عِيسَى ناشکری ہوگی کہ تم اپنے باپ دادوں سے روگردانی ابْنُ مَرْيَمَ وَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، کرو سنو! پھر رسول اللہ صل السلام نے یہ بھی فرمایا تھا ثُمَّ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ قَائِلًا مِنْكُمْ يَقُولُ کہ میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو جیسا کہ عیسی بن وَاللهِ لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ بَايَعْتُ فُلَانًا مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا گیا اور تم یہ کہو کہ وہ فَلَا يَغْتَرَنَّ امْرُؤٌ أَنْ يَقُولَ إِنَّمَا كَانَتْ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔پھر مجھے یہ خبر پہنچی بَيْعَةُ أَبِي بَكْرٍ فَلْتَةٌ وَتَمَّتْ أَلَا وَإِنَّهَا ہے کہ تم میں سے کوئی کہنے والا یہ کہتا ہے۔اللہ کی قَدْ كَانَتْ كَذَلِكَ وَلَكِنَّ الله وَقَى قسم ! اگر عمرہ کا انتقال ہو گیا تو میں فلاں کی بیعت شَرَّهَا وَلَيْسَ فِيْكُمْ مَنْ تُقْطَعُ الْأَعْنَاقُ کروں گا۔اس لئے کوئی شخص دھوکا میں رہ کر یہ نہ إِلَيْهِ مِثْلُ أَبِي بَكْرٍ مَنْ بَايَعَ رَجُلًا کہے کہ حضرت ابو بکر کی بیعت یونہی افرا تفری میں مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَا ہوئی تھی اور وہ سر انجام پاگئی۔سنو! بے شک وہ يُبَايَعُ هُوَ وَلَا الَّذِي بَايَعَهُ تَغِرَّةً أَنْ بیعت اسی طرح جلدی میں ہوئی تھی لیکن اللہ نے اس افراتفری کے شر سے بچائے رکھا اور تم میں يُقْتَلَا، وَإِنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِينَ حضرت ابو بکر جیسا کوئی نہیں ہے کہ جس کے پاس تَوَفَّى اللهُ نَيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اونٹوں پر سوار ہو کر لوگ آئیں جس نے أَنَّ الْأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی شخص کی بیعت کی تو فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَخَالَفَ عَنَّا اس کی بیعت نہ کی جائے اور نہ اس شخص کی جس نہ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَنْ مَعَهُمَا وَاجْتَمَعَ نے اس کی بیعت کی۔نتیجہ وہ دونوں اپنی جان سے