صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 662
صحیح البخاری جلد ۱۵ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: ۶۶۲ ۸۶ - كتاب الحدود قبول نہیں کی۔ اور کہنے لگے : اُمید نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جو انہوں نے اس سے پہلے نہیں کہی۔ حضرت عمر منبر پر بیٹھ گئے۔ جب اذان دینے والے خاموش ہو گئے وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ تعریف کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر کہا: صد اللرسم أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي قَائِلٌ لَكُمْ مَقَالَةً قَدْ اما بعد ! میں تم سے ایک ایسی بات کہنے لگا ہوں کہ قُدِرَ لِي أَنْ أَقُولَهَا لَا أَدْرِي لَعَلَّهَا میرے لئے مقدر تھا کہ میں وہ کہوں۔ میں نہیں بَيْنَ يَدَيْ أَجَلِي فَمَنْ عَقَلَهَا وَوَعَاهَا جانتا کہ شاید یہ بات میری موت کے قریب کی ہو۔ اس لئے جس نے اس بات کو سمجھا اور اچھی فَلْيُحَدِّثْ بِهَا حَيْثُ انْتَهَتْ بِهِ طرح یا د رکھا تو جہاں بھی اس کی اونٹنی اس کو پہنچا رَاحِلَتُهُ وَمَنْ خَشِيَ أَنْ لَا يَعْقِلَهَا فَلَا دے وہ اس بات کو بیان کرے اور جس کو یہ خدشہ أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَكْذِبَ عَلَيَّ إِنَّ اللَّهَ ہو کہ اس نے اس کو نہیں سمجھا تو میں کسی کے لئے بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جائز نہیں رکھتا کہ وہ میرے متعلق جھوٹ کہے۔ اللہ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ نے مح ملی ایم کو سچائی کے ساتھ بھیجا اور آپ پر مِمَّا أَنْزَلَ اللهُ آيَةُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَاهَا کتاب نازل کی تو اُن احکام میں سے جو اللہ نے وَعَقَلْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا ۔ رَجَمَ رَسُولُ اللهِ نازل کئے رجم کا حکم بھی ہے۔ ہم نے اس حکم کو پڑھا، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ، اور ہم نے اس کو سمجھا اور ہم نے اس کو اچھی طرح فَأَخْشَى إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ یاد رکھا۔ رسول اللہ علی ایم نے بھی سنسار کیا اور ہم نے بھی آپ کے بعد سنگسار کیا اور میں ڈرتا ہوں يَقُولَ قَائِلٌ وَاللَّهِ مَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ کر کہیں لوگوں پر اتنا لمبازمانہ نہ گزر جائے کہ کوئی فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ کہنے والا ہے، الہ کی قسم ہم تو تاب الله اللہ میں رحم أَنْزَلَهَا اللهُ وَالرَّجْمُ فِي كِتَابِ اللهِ ا حکم نہیں پاتے اور پھر وہ ایک فرض کو چھوڑ کر گمراہ حَقِّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أُحْصِنَ مِنَ ہو جائیں۔ اللہ نے اس حکم کو نازل کیا اور اللہ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ کی کتاب کے مطابق رجم کی سزا اس شخص کے لئے صا الله