صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 661 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 661

صحیح البخاری جلد ۱۵ ٦٦١ ۸۶ - كتاب الحدود وَأَنْ لَا يَعُوهَا وَأَنْ لَا يَضَعُوهَا عَلَى قریب اکٹھے ہو جائیں گے اور میں ڈرتا ہوں کہ مَوَاضِعِهَا فَأَمْهِلْ حَتَّى تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ کہیں آپ کھڑے ہو کر جو بات کریں گے اُسے فَإِنَّهَا دَارُ الْهِجْرَةِ وَالسُّنَّةِ فَتَخْلُص اڑانے والا آپ کے متعلق کچھ اور کا اور نہ اڑا دے بِأَهْلِ الْفِقْهِ وَأَشْرَافِ النَّاسِ فَتَقُولَ اور لوگ اسے نہ سمجھیں اور مناسب محل پر اسے مَا قُلْتَ مُتَمَكِّنَا فَيَعِي أَهْلُ الْعِلْمِ جہاں نہ کریں۔ آپ اس وقت تک انتظار کریں کہ مَقَالَتَكَ وَيَضَعُونَهَا عَلَى مَوَاضِعِهَا۔ مدینہ میں پہنچیں کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا مقام فَقَالَ عُمَرُ أَمَا وَاللَّهِ - إِنْ شَاءَ اللهُ ہے۔ آپ سمجھدار اور شریف لوگوں کو الگ کر کے لَأَقُومَنَّ بِذَلِكَ أَوَّلَ مَقَامٍ أَقُومُهُ جو آپ نے کہنا ہو اطمینان سے کہیں۔ اہل علم آپ بِالْمَدِينَةِ ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَدِمْنَا کی بات مجھیں گے اور مناس مناسب محل پر پر اسے چسپاں الْمَدِينَةَ فِي عُقْبِ ذِي الْحَجَّةِ فَلَمَّا کریں گے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اچھا بخدا مدینہ میں میں پہلی بار جو خطبے کے لئے کھڑا ہوں گا تو - كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ عَجَّلْتُ الرَّوَاحَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ حَتَّى أَجِدَ انشاء اللہ یہ بات بیان کروں گا۔ حضرت ابن عباس کہتے تھے: ہم مدینہ ذی الحج کے اخیر میں پہنچے۔ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ جب جمعہ کا دن ہوا جو نہی کہ سورج ڈھلا میں جلدی جَالِسًا إِلَى رُكْنِ الْمِنْبَرِ فَجَلَسْتُ ( مسجد میں) آگیا۔ وہاں پہنچ کر) میں سعید بن زید حَوْلَهُ تَمَسُّ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ فَلَمْ أَنْشَبْ بن عمرو بن نفیل کو منبر کے پاس بیٹھے ہوئے پاتا أَنْ خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَلَمَّا ہوں۔ میں بھی اُن کے پاس بیٹھ گیا۔ میرا گھٹنا اُن رَأَيْتُهُ مُقْبِلًا قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ کے گھٹنے سے لگ رہا تھا۔ میں تھوڑی ہی دیر ٹھہرا عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ لَيَقُولَنَّ الْعَشِيَّةَ مَقَالَةَ تها کہ حضرت عمر بن خطاب باہر تشریف لائے۔ جب لَمْ يَقُلْهَا مُنْذُ اسْتُخْلِفَ فَأَنْكَرَ عَلَيَّ میں نے انہیں سامنے سے آتے دیکھا میں نے سعید وَقَالَ مَا عَسَيْتَ أَنْ يَقُولَ مَا لَمْ يَقُلْ بن زيد بن عمرو بن نفیل سے کہا: آج حضرت عمر قَبْلَهُ، فَجَلَسَ عُمَرُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمَّا ایسی بات کہیں گے جو اُنہوں نے جب سے کہ وہ سَكَتَ الْمُؤَذِّنُونَ قَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ خلیفہ ہوئے ہیں نہیں کہی۔ انہوں نے میری بات