صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 659
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۵۹ ۸۶ - كتاب الحدود قَالَ قَالَ عُمَرُ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّى يَقُولَ قَائِلٌ لَا اُنہوں نے کہا: حضرت عمرؓ کہتے تھے: مجھے تو یہ ڈر نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللهِ فَيَضِلُّوا پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں لوگوں پر اتنا زیادہ زمانہ نہ گزر بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللهُ أَلَا وَإِنَّ الرَّجْمَ جائے کہ کوئی کہنے والا یہ کہے کہ کتاب اللہ میں رجم حَقُّ عَلَى مَنْ زَنَى وَقَدْ أَحْصَنَ إِذَا کا ظلم ہم نہیں پاتے اور اس سے وہ اس فرض کو قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَمْلُ أَوِ چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں جس کو اللہ نے نازل کیا۔ سنو ! جس شخص نے زنا کیا اور وہ شادی شدہ ہو اسے الاعْتِرَافُ ۔ قَالَ سُفْيَانُ كَذَا حَفِظْتُ أَلَا وَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله سنگسار کرنا ضروری ہے بشرطیکہ ثبوت بہم پہنچ گیا ہو یا حمل ہو یا اقرار ہو۔ سفیان نے کہا: مجھے یوں یاد عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ۔ ہے ۔ سنو! اور رسول اللہ صلی الم نے بھی زناکار کو سنگسار کیا اور ہم نے بھی آپ کے بعد سنگسار کیا۔ أطرافه: ٢٤٦٢ ، ٣٤٤٥ ، ۳۹۲۸ ، ٤٠۲۱، ٦٨٣٠، ٧٣٢٣۔ تشريح الاعتراف بالزنا زناکا اقرار حضرت مصلح موعود وعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اقرار کے متعلق بھی یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اقرار وہ ہے جو بغیر جبر اور تشدد کے ہو ورنہ پولیس کئی دفعہ مار پیٹ کر بھی اقرار کر والیتی ہے حالانکہ وہ اقرار صرف جبر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پھر یہ اقرار ایک دفعہ کافی نہیں بلکہ چار دفعہ بغیر پولیس کے قاضی کے سامنے اقرار ہونا چاہئے۔ اور اقرار بھی قسمیہ ہونا چاہئے۔ تب اس کو حد لگے گی۔ لیکن اگر ایسا شخص چار دفعہ اقرار کرنے کے باوجود بعد میں انکار کر دے تو اس کو حد زنا نہیں لگے گی۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ نور، زیر آیت وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ جلد ۶ صفحه ۲۶۱) بَاب ۳۱ : رَجْمُ الْحُبْلَى مِنَ الزِّنَا إِذَا أَحْصَنَتْ زنا کی وجہ سے حاملہ عورت کو سنگسار کرنا بشر طیکہ وہ شادی شدہ ہو ٦٨٣٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۶۸۳۰: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ که ابراهيم بن سعد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے صالح