صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 658
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۵۸ ۸۶ - کتاب الحدود مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ بیٹے کو سو کوڑے پڑنے چاہیں اور ایک سال کے عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا، لئے جلاوطن کیا جائے اور اس کی بیوی کو سنگسار کیا فَغَدًا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا قُلْتُ جائے۔(یہ سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لِسُفْيَانَ لَمْ يَقُلْ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ابْنِي الرَّجْمَ فَقَالَ الشَّكُ فِيهَا مِنَ ہے میں تمہارے درمیان اللہ جل ذکرہ کی کتاب الزُّهْرِيِّ فَرُبَّمَا قُلْتُهَا وَرُبَّمَا سَكَتُ۔کے موافق ہی فیصلہ کروں گا۔ایک سو بکری اور وہ نوکر واپس لئے جائیں اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے، اور اسے اُنہیں ! اس عورت کے پاس صبح جاؤ اگر اس نے اقرار کیا تو پھر اس کو سنگسار کرو۔چنانچہ حضرت اُنہیں اس کے پاس گئے اور اس نے اقرار کیا اور حضرت اُنہیں نے اس کو سنگسار کیا۔میں نے سفیان سے کہا: اس شخص نے یوں نہیں کہا تھا کہ علماء نے مجھے بتایا ہے کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے تو سفیان نے کہا: میں بھی اس کے متعلق شک رکھتا ہوں کہ میں نے یہ زہری سے سنا اس لئے کبھی تو میں نے اسے بیان کیا اور کبھی میں خاموش رہا۔أطراف الحديث :٦٨٢٧ ،۲۳۱۵ ،۲۶۹۵، ٢٧٢٤ ، ٦٦٣٣ ٦٨٣٣، ٦٨٣٥، ٦٨٤٢، أطراف الحديث ۲۳۱٤،٦۸۲۸، ٢٦٤٩، ٢٦٩٦، ٢٧٢٥، ٦٦٣٤، ٦٨٣١، ٦٨٣٦، -۷۲۷۸ ،۷۲۶۰ ،۷۲۵۸ ،۷۱۹۳ ،٦٨٥٩ -۷۲۷۹ ،۷۲٦٨٤٣ ، ٦٨٦٠، ٧١٩٤، ٥٩ ٦٨٢٩: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۶۸۲۹ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ سفيان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا زہری سے ، زہری نے عبید اللہ سے ، عبید اللہ نے