صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 654
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۵۴ ۸۶ - کتاب الحدود بَاب ۲۸ : هَلْ يَقُولُ الْإِمَامُ لِلْمُقِرَ لَعَلَّكَ لَمَسْتَ أَوْ غَمَرْتَ کیا امام اقرار کرنے والے سے یوں کہے شاید تم نے چھوا ہو گا یا آنکھ سے اشارہ کیا ہو گا ٦٨٢٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۶۸۲۴: عبد اللہ بن محمد جعفی نے ہم سے بیان کیا الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ کہ وہب بن جریر نے ہمیں بتایا۔میرے باپ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے یعلیٰ بن حکیم سے سنا۔اُنہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ حَكِيمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا أَتَى مَاعِزُ کی۔اُنہوں نے کہا: جب ماعز بن مالک نبی صلی اللہ بْنُ مَالِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اس سے فرمایا: قَالَ لَهُ لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَوْتَ أَوْ شاید تم نے بوسہ لیا ہو گا یا اشارہ کیا ہو گا یا دیکھا نَظَرْتَ؟ قَالَ لَا يَا رَسُولَ اللهِ۔قَالَ ہوگا۔اُس نے کہا: نہیں یارسول اللہ۔آپ نے أَنِكْتَهَا؟ لَا يَكْنِي قَالَ فَعِنْدَ ذَلِكَ پوچھا: کیا تم نے اس سے جماع کیا؟ آپ نے کنایہ سے نہیں پوچھا۔حضرت ابن عباس کہتے تھے: أَمَرَ بِرَجْمِهِ۔تشریح تب آپ نے اُس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔۔هَلْ يَقُولُ الْإِمَامُ لِلْمُقِرِ لَعَلَّكَ لَمَسْتَ أَو غَمزت: کیا امام اقرار کرنے والے سے یوں کہے شاید تم نے چھوا ہو گا یا آنکھ سے اشارہ کیا ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ اور تاثیرات روحانی نے صحابہ کے اندر جو پاک انقلاب پیدا کیا اس کی ایک مثال زیر باب حدیث میں بیان کی گئی ہے۔شیخ رحمت اللہ خان شاکر صاحب نے اس واقعہ کو نہایت دلنشین پیرایہ میں تحریر کیا ہے۔انہی کے الفاظ میں یہ تحریر پیش ہے: ” صحابہ کر ام راستی اور صدق بیانی کے پیکر اور سچائی اور استبازی کی جیتی جاگتی تصویریں تھے۔عام حالات واقعات میں ان کی راست بیانی کا تذکرہ گویا ان کے مقام صدق کی توہین ہے۔دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا نقصان اور خوفناک سے خوفناک سزا کا خوف بھی ان کو جادہ صداقت سے منحرف نہیں کر سکتا تھا۔وہ اپنی جان پر کھیل جاتے لیکن کیا مجال کہ کوئی خلاف واقعہ حرف زبان پر لائیں۔اور روحانی لحاظ سے کوئی نمایاں مقام رکھنے والے تو در کنار ان کے کمزور بھی غلط بیانی کی جرات نہ کر سکتے تھے۔حتی کہ اگر کسی سے بتقاضائے بشریت کوئی غلطی بھی سرزد ہو جاتی تو وہ سزا کے خوف یا عقوبت کے خیال سے اسے چھپانے کا وہم بھی دل میں نہ لا سکتے تھے۔بلکہ عواقب سے بالکل بے نیاز ہو کر صاف صاف اقرار کر لیتے تھے۔حضرت ماعز بن مالک ایک نوجوان صحابی تھے۔انسان خطا و نسیان کا پتلا ہے۔اور شیطان اسے جادہ صراط