صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 653
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۵۳ ۸۶ - کتاب الحدود بَاب :۲۷: إِذَا أَقَرَّ بِالْحَدِ وَلَمْ يُبَيِّنْ هَلْ لِلْإِمَامِ أَنْ يَسْتُرَ عَلَيْهِ؟ اگر کوئی اس جرم کا اقرار کرے جس کی شرعی سزا مقر ر ہے اور وہ کھول کر بیان نہ کرے تو کیا امام کا اختیار ہے کہ وہ اس کی پردہ پوشی کرے ٦٨٢٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ ۶۸۲۳: عبد القدوس بن محمد نے ہم سے بیان کیا مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ کہ عمرو بن عاصم کلابی نے مجھے بتایا۔ہمام بن يحي الْكِلَابِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بن أَبِی نے ہمیں بتایا۔اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! میں نے الله طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا ایسا گناہ کیا ہے کہ جس پر شرعی سزا لازم آتی ہے۔رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ اس لئے آپ مجھے سزا دیں۔حضرت انس کہتے عَلَيَّ۔قَالَ وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْهُ قَالَ تھے: آپ نے اس سے اس گناہ کے متعلق نہیں وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ پوچھا۔کہتے تھے اور نماز کا وقت آگیا تھا تو اس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو وہ شخص اٹھ قَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ کہ آپ کے پاس گیا اور کہا: یا رسول اللہ ! میں نے إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْ فِي كِتَابَ اللهِ ایسا گناہ کیا ہے کہ جس پر شرعی سز الازم آتی ہے اس لئے آپ میرے متعلق اللہ کا حکم نافذ کریں۔آپ قَالَ أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ مَعَنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ اللهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ أَوْ قَالَ حَدَّكَ۔نے فرمایا: کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔اس نے کہا: ہاں۔آپ نے فرمایا: تو پھر اللہ نے تم پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے تمہارے گناہ کو معاف کر دیا ہے۔ذَنْبَكَ کا لفظ فرمایا یا حَدَّكَ کا۔