صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 655
صحیح البخاری جلد ۱۵ - کتاب الحدود سے منحرف کرنے کے لیے اس طرح اس کی تاک میں لگا رہتا ہے کہ ہر وقت اس سے خطا کے صدور کا امکان ہے۔چنانچہ وہ بھی اس بہکانے میں آگئے۔ایک دفعہ ان سے زناء کی لغزش سرزد ہوئی۔یہ کوئی معمولی لغزش نہ تھی اور شریعت اسلامی میں اس کی سزا سے وہ ناواقف بھی نہ تھے لیکن صحابہ کرام اپنی خطا کی سزا اس دنیا میں برداشت کر لینا خدا تعالیٰ کے حضور گنہگار ہونے کی حیثیت میں جانا بہت زیادہ آسان سمجھتے تھے۔چنانچہ بعد میں انہیں جب اپنی غلطی کا احساس ہوا تو دامن صبر قرار ہاتھ سے چھوٹ گیا۔غفلت کا پردہ اٹھتے ہی اللہ تعالیٰ کا رعب ایسا طاری ہوا کہ بے چین ہو گئے اور بے تاب ہو کر آنحضرت صلی علم کی خدمت میں پہنچے۔اور عرض کیا یا رسول اللہ مجھے پاک کیجئے۔لیکن آنحضرت صلی للہ ہم نے چشم پوشی سے کام لیا اور فرمایا جاؤ خدا تعالیٰ سے مغفرت چاہو اور اس کے حضور تو بہ کرو۔ماعز یہ جواب سن کر لوٹے مگر جو لغزش ہو چکی تھی اس نے اطمینان قلب ختم کر دیا تھا۔طبیعت پر اس کا اس قدر بوجھ تھا کہ جلد از جلد اس کو دور کرنا چاہتے تھے۔دل کو سکون نہ تھا۔ارشاد کی تعمیل میں واپس تو ہو گئے لیکن تھوڑی دور جا کر پھر واپس آئے۔اور پھر دل کی بیتابی سے مجبور ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ مجھے پاک کیجئے۔آپ نے پھر چشم پوشی فرمائی اور پھر یہی جواب دیا کہ جاؤ خد اتعالیٰ سے مغفرت طلب کرو۔اور اسی کے حضور توبہ کرو۔یہ ارشاد سن کر آپ لوٹنے کو تو پھر لوٹ گئے مگر قلبی کیفیت نے بالکل بے بس کر رکھا تھا۔قدم اٹھاتے آگے کو اور پڑتا پیچھے کی طرف تھا۔بس ایک ہی خیال دل میں جاگزیں تھا کہ جس طرح بھی ممکن ہو اس گند اور فسق و فجور کی آلائش سے اپنا دامن پاک کریں۔اس لیے چند قدم جانے کے بعد پھر ایک وار شنگی کے عالم میں واپس ہوئے اور پھر یہی درخواست کی یارسول اللہ مجھے پاک کیجئے۔اس پر آپ نے فرمایا تم کس چیز سے پاک ہونا چاہتے ہو۔ماعز نے نہایت ندامت اور شرمساری کے لہجہ میں عرض کیا زنا کی گندگی سے۔ان کی یہ صاف بیانی اور رضا کارانہ اقبال جرم کو دیکھ کر آنحضرت ملا لی ہم کو بھی حیرت ہوئی۔اور آپ نے لوگوں سے پوچھایہ شخص مجنون تو نہیں۔اور اس کی یہ باتیں کسی دماغی عارضہ کا نتیجہ تو نہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ نہیں۔اس کی دماغی حالت بالکل درست ہے۔لیکن آپ شرعی حدود قائم کرنے سے قبل چونکہ تمام پہلوؤں کو اچھی طرح معلوم کرنا ضروری سمجھتے تھے اس لیے پھر فرمایا کہ اس نے شراب تو نہیں پی ہوئی۔ایک شخص نے قریب جا کر منہ سونگھا۔تو معلوم ہوا کہ ایسا نہیں اور منہ سے شراب کی بو نہیں آتی تھی۔اس پر آنحضرت صلی اللہ ہم نے پھر فرمایا۔ماعز کیا تم نے واقعی زنا کیا۔انہوں نے جواب دیا کہ ہاں یا رسول اللہ واقعی مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی۔اس پر آپ نے سنگساری کا حکم دیا۔حضرت عمر نے ان کے متعلق فرمایا ہے کہ انہوں نے خدا کی ستاری کی پرواہ نہیں کی۔اس لیے انہیں شریعت کی ظاہری سزا بھگتنی پڑی۔اگر وہ تو بہ اور استغفار کرتے تو اللہ تعالی ستار ہے۔ان کی سچی توبہ پر ویسے بھی بخش دیتا اور انہیں اس سزا سے بھی بچالیتا۔(مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے، راست گفتاری اور صاف گوئی صفحہ ۱۱۶ تا ۱۱۸) بَاب ۲۹: سُؤَالُ الْإِمَامِ الْمُقِرَّ هَلْ أَحْصَنْتَ؟ امام کا اقرار کرنے والے سے پوچھنا کیا تم شادی شدہ ہو ؟ ٦٨٢٥ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ ۶۸۲۵: سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا۔انہوں