صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 652
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۵۲ ۸۶ - کتاب الحدود ٦٨٢٢: وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ ۶۸۲۲: اور لیث نے عمرو بن حارث سے یوں الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ نقل کیا۔انہوں نے عبدالرحمن بن قاسم سے، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عبد الرحمن نے محمد بن جعفر بن زبیر سے ، انہوں عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ نے عباد بن عبد اللہ بن زبیر سے ، عباد نے حضرت أَتَى رَجُلٌ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عائشہ سے روایت کی کہ ایک شخص مسجد میں نبی فِي الْمَسْجِدِ قَالَ احْتَرَقْتُ، قَالَ مِمَّ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔اور کہنے لگا: میں جل ذَاكَ۔قَالَ وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ۔گیا۔آپ نے فرمایا: کس سے جل گیا؟ وہ بولا۔رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں۔قَالَ لَهُ تَصَدَّقْ قَالَ مَا عِنْدِي شَيْءٌ آپ نے فرمایا: صدقہ دو۔وہ کہنے لگا: میرے پاس فَجَلَسَ، وَأَتَاهُ إِنْسَانٌ يَسُوقُ حِمَارًا تو کچھ نہیں اور یہ کہہ کر بیٹھ گیا اور آپ کے پاس وَمَعَهُ طَعَامٌ - قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا ایک شخص گدھا ہانکتے ہوئے آیا۔اس کے ساتھ أَدْرِي مَا هُوَ - إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ کھانے کی کوئی چیز تھی۔عبدالرحمن نے کہا: میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ نہیں جانتا کہ وہ کیا چیز تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ هَا أَنَا ذَا قَالَ خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ کے پاس لایا تو آپ نے پوچھا: وہ جلنے والا کہاں بِهِ قَالَ عَلَى أَحْوَجَ مِنِّي؟ مَا لِأَهْلِي ہے؟ اس نے کہا: میں یہ ہوں۔آپؐ نے فرمایا: طَعَامٌ قَالَ فَكُلُوهُ قَالَ أَبُو عَبْد الله اسے لو اور اس کو صدقہ میں دے دو۔اس نے الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ أَبْيَنُ قَوْلُهُ أَطْعِمْ کہا: کیا اس کو جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو ؟ میرے گھر والوں کے پاس تو کھانے کو کوئی چیز نہیں۔آپ نے فرمایا: پھر تم ہی اسے کھاؤ۔ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: پہلی حدیث زیادہ واضح ہے یعنی اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔أَهْلَكَ۔طرفه: ۱۹۳۵۔