صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 651
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۵۱ ۸۶ - کتاب الحدود بَاب ٢٦ : مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا دُونَ الْحَدِ فَأَخْبَرَ الْإِمَامَ فَلَا عُقُوبَةَ عَلَيْهِ بَعْدَ التَّوْبَةِ إِذَا جَاءَ مُسْتَفْتِيًا جس نے حد سے کم گناہ کیا ہو اور امام کو بتادیا ہو تو تو بہ کرنے کے بعد اس کو کوئی سزا نہ دی جائے جبکہ وہ مسئلہ پوچھنے کے لئے آیا ہو قَالَ عَطَاء لَمْ يُعَاقِبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عطاء نے کہا: نبیصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سزا نہیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَلَمْ دی۔اور ابن جریج نے کہا: جس شخص نے رمضان يُعَاقِبِ الَّذِي جَامَعَ فِي رَمَضَانَ میں جماع کیا تھا اس کو بھی سزا نہیں دی اور حضرت وَلَمْ يُعَاقِبْ عُمَرُ صَاحِبَ الظَّبْي عمر نے اس شخص کو بھی سزا نہیں دی جس نے احرام وَفِيهِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ میں ہرن کا شکار کیا تھا۔اور اس کے متعلق ابو عثمان عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔(نہدی) سے مروی ہے کہ اُنہوں نے حضرت ابن مسعودؓ سے، حضرت ابن مسعودؓ نے نبی صلی اللہ رَضِيَ علیہ وسلم سے روایت کی۔٦٨٢١: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ :۶۸۲۱: قتيبه (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ابن شہاب نے حمید بن عبد الرحمن سے، حمید نے اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ فِي رَمَضَانَ فَاسْتَفْتَى رَسُولَ اللهِ ایک حص رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا۔آپ نے فرمایا: کیا تم ایک گردن آزاد کرنے کی طاقت رکھتے ہو ؟ اس نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا: کیا تم دو مہینے روزے رکھ سکتے ہو ؟ اس نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا: پھر ساٹھ مسکینوں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً؟ قَالَ لَا۔قَالَ هَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ؟ قَالَ لَا۔قَالَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا۔کو کھانا کھلاؤ۔أطرافه: ۱۹۳۶ ، ۱۹۳۷ ، ۲۶۰۰ ۳۶۸، ٦۰۸۷، ٦١٦٤ ٦٧٠٩ ، ٦٧١٠، ٦٧١١۔