صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 650
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۶ - کتاب الحدود عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا معمر نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ سے، مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو سلمہ نے حضرت جابر سے روایت کی کہ اسلم ابوسلمہ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ (قبیلہ) کا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى آیا اور اس نے زنا کا اقرار کیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَقَالَ نے اس سے منہ پھیر لیا، یہاں تک کہ جب اس لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِكَ نے اپنے متعلق چار بار اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ جُنُونٌ؟ قَالَ لَا۔قَالَ أَحْصَنْتَ؟ قَالَ وَسلم نے اس سے پوچھا: کیا تمہیں جنون ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔آپ نے پوچھا: کیا شادی شدہ ہو ؟ اس نے کہا: ہاں۔تب آپ نے اس کے متعلق حکم دیا اور اُسے عید گاہ میں سنگسار کیا گیا۔جب اس کو پتھر پڑنے لگے تو وہ بھاگ گیا۔پھر اُسے پکڑ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا وَصَلَّى عَلَيْهِ۔وَلَمْ کیا گیا اور اس کو سنگسار کیا۔یہاں تک کہ وہ مر گیا۔يَقُلْ يُونُسُ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ في صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اچھے الفاظ میں ذکر فَصَلَّى عَلَيْهِ۔کیا اور اُس کا جنازہ پڑھا۔یونس اور ابن جریج نے نَعَمْ۔فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُحِمَ حَتَّى مَاتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ زہری سے روایت کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ آپ نے اس کا جنازہ پڑھا۔سُئِلَ أَبُو عَبْدِ اللهِ هَلْ قَوْلُهُ فَصَلَّى ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) سے پوچھا گیا کہ حضرت عَلَيْهِ يَصِحُ أَمْ لَا ؟ قَالَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ، جابر کا یہ کہنا کہ اس کا جنازہ پڑھایا، صحیح ہے یا نہیں۔قِيلَ لَهُ هَلْ رَوَاهُ غَيْرُ مَعْمَرٍ قَالَ لَا۔(امام بخاری نے) کہا: معمر نے اسے روایت کیا ہے۔اُن (امام بخاری) سے پوچھا گیا، کیا معمر کے سوا بھی کسی نے اسے روایت کیا ہے۔انہوں نے کہا: نہیں۔أطرافه: ۰۲٧٠، ٥۲۷۲، ٦٨١٤، ٦٨١٦، ٦٨٢٦، ٧١٦۔