صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 644
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۴۴ ۸۶ - کتاب الحدود انہوں نے سلام پھیر اتو میں نے اُن کی چادر پکڑ لی اور اُن سے کہا کہ اس سورۃ کو اس طرح پڑھنا آپ کو کس نے سکھایا ہے۔انہوں نے کہا رسول کریم صلی ا ولم نے۔میں نے کہا تم جھوٹ بولتے ہو۔چلو میں رسول کریم صلی ال نیم کے سامنے تمہارا معاملہ پیش کرتا ہوں۔اصل سورۃ اور طرح ہے اور تم اور طرح پڑھ رہے ہو۔چنانچہ وہ انہیں کھینچ کر رسول کریم صلی اہل علم کے پاس لے گئے۔رسول کریم صلی الم نے فرمایا ہشام تم کس طرح پڑھ رہے تھے۔انہوں نے پڑھ کر سنایا تو فرمایا ٹھیک ہے۔پھر آپ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا کہ تم پڑھو۔انہوں نے یہ سورۃ اس طرح پڑھی جس طرح رسول کریم ملی ایم نے انہیں سکھائی تھی آپ نے فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔قرآن کریم سات قرآتوں میں نازل کیا گیا ہے۔اس لئے تم ان معمولی معمولی باتوں پر آپس میں لڑا نہ کرو۔جس طرح کسی کی زبان پر کوئی لفظ چڑھے اُسی طرح پڑھ لیا کرے۔معلوم ہوتا ہے جس طرح حضرت عمرؓ سے اس جگہ غلطی ہوئی۔اسی طرح زنا کی سزا کے معاملہ میں بھی حضرت عمرؓ سے غلطی ہو گئی اور انہوں نے رسول کریم صلی الی یوم کے ایک قول کو وحی سمجھ لیا۔ورنہ فی الواقعہ اگر یہ قرآنی آیت ہوتی تو رسول کریم ملی و کم حضرت زید بن ثابت کو حکم دیتے جیسا کہ آپ اور آیتوں کے متعلق حکم دیا کرتے تھے کہ یہ قرآن کی وحی ہے اسے قرآن کریم میں فلاں مقام پر درج کرو۔لیکن حضرت زید بن ثابت نے اس کو قرآن کریم میں درج نہیں کیا جس کا نسخہ حضرت ابو بکر کے زمانہ میں تیار ہو گیا تھا یعنی حضرت عمرؓ کے خلیفہ ہونے سے پہلے۔پس صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر کو غلطی لگی تھی۔اور انہوں نے ایک قول کو وحی سمجھ لیا تھا۔ممکن ہے کہ آپ نے اس قسم کی خواہش کا اظہار کیا ہو کہ اگر ایسے حالات میں یہ فعل ہو تو میرا دل چاہتا ہے کہ ایسے آدمی کو بائیبل کے احکام کے مطابق رحم کر دیا جائے۔۔۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ نام کا بعض لوگوں کو رحم کرنا محض یہودی تعلیم کی اتباع میں تھا لیکن اس کے بعد جب قرآن کریم میں واضح حکم آگیا تو پہلا حکم بھی بدل گیا اور وہی حکم آج بھی موجود ہے جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے یعنی اگر کسی کی نسبت زنا