صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 645
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۴۵ ۸۶ - كتاب الحدود کا جرم ان شرائط کے ساتھ ثابت ہو جائے جو قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں تو اسے سو کوڑے لگائے جائیں۔ کوڑوں کی تشریح قرآن کریم نے بیان نہیں فرمائی لیکن قرآنی الفاظ سے یہ بات ثابت ہے کہ کوڑا ایسی طرز پر مارا جانا چاہیئے کہ جسم کو اس کی ضرب محسوس ہو۔ کیونکہ جلده بالسياط کے معنی ہوتے ہیں : ضَرَبَهُ بِهَا وَ أَصَابَ جِلْدَة (اقرب ) یعنی کوڑے سے اس طرز پر مارا کہ جلد تک اس کا اثر پہنچا۔ پس کسی چیز سے جس کی ضرب اتنی ہو کہ جسم محسوس کرے سزا دینا اور لوگوں کے سامنے سزا دینا اس حکم سے ثابت ہوتا ہے۔ خواہ وہ کوڑا چمڑے کا نہ ہو بلکہ کپڑے کا ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ کوڑا وہی ہو جیسا کہ آج کل عدالتیں استعمال کرتی ہیں اور جس کی ضرب اگر سو (۱۰۰) کی حد تک پہنچے تو انسان غالباً مر جائے۔ سورۂ نساء کی آیت نے ثابت کر دیا ہے کہ ایسے کوڑے مارنے نا جائز ہیں جن کے نتیجہ میں موت وارد ہو جائے۔ ایسے ہی کوڑے مارے جا سکتے ہیں اور اتنی ہی شدت سے مارے جاسکتے ہیں جس سے انسان پر موت وارد ہونے کا کوئی امکان نہ ہو۔ یعنی نہ تو کوڑا ایسا ہونا چاہئے جس سے ہڈی ٹوٹ جائے کیونکہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہے کہ جلده بالسياط کے معنوں میں یہ بات داخل ہے کہ صرف جلد کو تکلیف پہنچے ہڈی کے ٹوٹنے یا اس کو نقصان پہنچنے کا کوئی ڈر نہ ہو اور نہ ایسا ہونا چاہئے کہ اس کی ضرب سے انسان پر موت وارد ہونے کا کوئی امکان ہو۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں صرف زانی یا زانیہ کا لفظ نہیں رکھا۔ بلکہ الزَّانِيَةُ وَالزَّانِی کے الفاظ رکھتے ہیں یعنی الف لام کی زیادتی کی گئی ہے اور الف لام کی زیادتی ہمیشہ معنوں میں تخصیص پیدا کر دیا کرتی ہے۔ پس اس جگہ الزَّانِيَةُ وَ الزائی سے صرف ایسا ہی شخص مراد ہو سکتا ہے جو یا تو زنا کا عادی ہو یا علی الاعلان ایسا فعل کرتا ہو۔ اور اتنا نڈر اور بے باک ہو گیا ہو کہ وہ اس بات کی ذرا بھی پر واہ نہ کرتا ہو کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے یا نہیں یا اس میں شہوت کا مادہ تو نہ ہو اور پھر بھی وہ زنا کر تا ہو جیسے بوڑھا مر دیا بوڑھی عورت۔ ان معنوں کے لحاظ سے اس حدیث کی بھی ایک رنگ میں تصدیق ہو جاتی ہے جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ ”الشیخ ابر