صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 643
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۴۳ ۸۶ - کتاب الحدود ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ درحقیقت یہی زیادہ معتبر قول ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ خیال ظاہر کیا کہ میں قرآن کے حاشیے پر یہ عبارت لکھ دیتا۔اور قرآن کے حاشیہ پر اگر کوئی چیز لکھی ہوئی ہو تو وہ قرآن نہیں بن جاتی پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو اس روایت کے مطابق اس کو حکم الہی سمجھتے تھے وہ بھی یہ جرات نہیں کر سکے کہ اس کو قرآن کریم میں داخل کر دیں۔حالانکہ اس وقت قرآنی وحی کے بہت سے کاتب موجو د تھے اور وہ اُن سے پوچھ سکتے تھے لیکن اُن سے نہ پوچھنا بھی بتاتا ہے کہ حضرت عمرؓ کو یقین تھا کہ میرا یہ خیال صرف ایک وہم ہے۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی جو آیتیں اترتی تھیں رسول کریم صلی اللہ نام کا اتب وحی کو بلوا کر وہ آیت اس جگہ پر لکھوا دیتے تھے جہاں اس آیت کا لکھوایا جانا ضروری ہوتا تھا۔اگر یہ قرآن کی آیت ہوتی اور واقعہ میں یہ خدائی حکم ہوتا تو رسول کریم صلی ال ولم اسے کیوں نہ لکھواتے۔رسول کریم صلی نیم کے کاتب وحی حضرت زید بن ثابت سے یہی روایت تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور اس سے صاف ثابت ہے کہ رسول کریم صلی یم نے اس حکم کو جس شکل میں بھی تھا قرآن کریم کا حکم قرار نہیں دیا۔اُن کی روایت یہ ہے کہ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ إِذَا زَلَى الشَّيْخُ وَالشَّيْغَةُ فَارْجِمُوهُمَا الْبَقَةَ (محلى ابن حزم جلد ۱۱ ص ۲۳۵) یعنی میں نے رسول کریم صلی ہیں تم کو یہ فرماتے سنا کہ جب کوئی بڑی عمر کا مر دیا بڑی عمر کی عورت زنا کریں تو ان کو رحم کر کے مار دو۔ان الفاظ سے ثابت ہے کہ حضرت زید بن ثابت نے اسکو کبھی وحی قرآنی قرار نہیں دیا۔بلکہ رسول کریم لی لی نام کا قول قرار دیا ہے ممکن ہے حضرت عمر نے بھی یہی سنا ہو لیکن انہوں نے بجائے قول کے اس کو وحی سمجھ لیا ہو اور حضرت عمر ایسی غلطیاں جلد بازی میں کر لیا کرتے تھے چنانچہ وہ خود روایت کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ نماز میں ہشام بن حکیم کو سورۂ فرقان پڑھتے سنا مگر وہ اس سورۃ کو اس طرح نہیں پڑھ رہے تھے جس طرح میں نے رسول کریم صلی للی کم کو پڑھتے سنا تھا۔اس پر مجھے سخت غصہ آیا اور قریب تھا کہ میں نماز میں ہی اُن پر حملہ کر دیتا۔مگر میں نے صبر کیا۔جب