صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 642 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 642

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۴۲ ۸۶ - کتاب الحدود کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔پس صرف یہ صورت رہ جاتی ہے کہ ہم کہیں کہ رجم کا کوئی حکم پہلے موجود تھا۔جسے قرآن کریم کی اس آیت نے منسوخ کر دیا۔اگر یہ بات مانی جائے تو سارا مسئلہ ہی صاف ہو جاتا ہے اور شکل یہ بنتی ہے کہ یہود میں رجم کا حکم موجود تھا ( دیکھو یوحنا باب ۸ آیت ۵ و حزقی ایل باب ۱۶ آیت ۴۰ واحبار باب ۲۰ آیت ۱۰ واستثناء باب ۲۲ آیت (۲۲) رسول کریم صلی ا ہم نے اس حکم کے ماتحت مسلمانوں میں بھی یہی طریق جاری کیا کیونکہ اُس وقت تک قرآن کریم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔جب قرآن کریم نے فیصلہ کر دیا تو پہلا طریق منسوخ ہو گیا جو قرآنی حکم نہیں تھا بلکہ اتباع یہود میں ایک اسلامی دستور قائم ہوا تھا۔مگر اس عقیدہ کے ماننے کیلئے ضروری ہے کہ تاریخی طور پر یہ ثابت کیا جائے کہ رجم پر مسلمانوں کا عمل سو کوڑے مارنے کے عمل سے پہلے تھا لیکن تاریخ سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی۔بلکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ رجم کرنے کا طریق مسلمانوں میں بعد میں بھی جاری رہا اور حضرت عمرؓ کے متعلق تو یہاں تک بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں رجم کی ایک آیت تھی جو کہ بعد میں غائب ہو گئی۔اور وہ اس کے الفاظ یہ بتاتے ہیں کہ الشَّيْحُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنْيَا فَارْجُمُوهُمَا البقة (كشف الغمیہ جلد ۲ ص ۱۱۱) ایک بڑی عمر والا مرد یا ایک بڑی عمر والی عورت جب زنا کریں تو انکو پتھر مار کر کلی طور پر قتل کر دو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو کہا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو تم لوگوں کے مرنے کے بعد کوئی شخص یہ کہنے لگ جائے کہ ہم کو تو خدا کی کتاب میں رجم کا مسئلہ نہیں ملتا کیونکہ رسول کریم ملی الم نے بھی رجم کیا ہے اور ہم نے بھی آپ کے بعد رجم کیا ہے۔اور مجھے خدا کی قسم اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ کوئی شخص یہ اعتراض کر دیگا کہ عمر نے خدا کی کتاب میں اپنے پاس سے زیادتی کر دی ہے تو میں یہ حکم بھی لکھ دیتا۔اور ایک روایت میں آتا ہے کہ میں یہ حکم قرآن کریم کے حاشیہ پر لکھ دیتا۔(کشف الغمہ، جلد ۲ صفحہ ۱۱۱، فتح القدیر شرح هداية جلد ۴ صفحه (۱۲۱) چونکہ یہ ایک عقلی اور نقلی مسلمہ اصول ہے کہ کسی روایت کی زیادتی اس کے معنوں کی اصل تشریح ہوتی ہے اس لئے