صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 641
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۴۱ ۸۶ - کتاب الحدود آیت نور ہی منسوخ ہو جاتی ہے بلکہ سورہ نساء کی آیت بھی بالکل بے معنی ہو جاتی ہے کیونکہ اس میں صاف بتایا گیا ہے کہ لونڈی کی سزا آدھی ہے اور رحم کا آدھا قیاس میں بھی نہیں آسکتا۔پس اس آیت کے صریح اور واضح مفہوم کے ہوتے ہوئے اور سورۃ نساء کی آیت کی تصدیق کی موجودگی میں یہ بات بغیر کسی شک اور شبہ کے کہی جاسکتی ہے کہ قرآن کریم میں زنا کی سزا آزاد عورت اور مرد کے لئے سو کوڑے ہیں اور لونڈی یا قیدی کے لئے پچاس کوڑے ہیں۔ما الرسل اب رہا یہ سوال کہ رجم کا دستور مسلمانوں میں کس طرح پڑا ؟ سو اس بارہ میں یاد رکھنا چاہئے کہ احادیث سے یہ امر ثابت ہے کہ رسول کریم صلی ا ہم نے بد کار عورت اور مرد کے متعلق رجم کا حکم دیا۔پس اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مسلمانوں میں کبھی نہ کبھی اور کسی نہ کسی صورت میں رجم کا حکم یقینا تھا۔سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ آیار جم نے کوڑے مارنے کے حکم کو منسوخ کیا یا کوڑے مارنے کے حکم نے رجم کے حکم کو منسوخ کیا۔یا یہ دونوں حکم ایک وقت میں موجود تھے۔اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ اس حکم کے متعلق ناسخ اور منسوخ کا قاعدہ استعمال ہوا ہے تو ہمارے اپنے عقیدہ کے رو سے تو معاملہ بالکل صاف ہو جاتا ہے۔کیونکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی منسوخ حکم قرآن کریم میں موجود نہیں۔قرآن کریم میں جتنے احکام موجود ہیں وہ سب غیر منسوخ ہیں۔اس عقیدہ کے رو سے ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اگر رجم کا کوئی حکم تھا تو اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے تھا اور اس آیت نے اسے منسوخ کر دیا لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی اور حکم بعد میں نازل ہوا اور اس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا اور اگر کوئی حدیث اس کے خلاف ہے تو وہ مردود ہے کیونکہ وہ قرآن شریف کو رد کرتی ہے۔نیز اگر یہ آیت منسوخ ہو گئی ہوتی تو پھر یہ قرآن سے نکال دی جاتی۔یہ جو بعض فقہاء نے مسئلہ بنایا ہوا ہے کہ بعض آیتیں ایسی ہیں کہ تلاو تا قائم ہیں اور حکماً منسوخ ہیں یہ نہایت ہی خلاف عقل خلاف دلیل اور خلاف آداب قرآنی ہے۔ہم اس مسئلہ کو ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔ہمارے نزدیک اگر منسوخ آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں تو پھر سارے قرآن