صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 640
۶۴۰ صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۶ - کتاب الحدود نے یہ فرق نہیں کیا کہ یہ کنوارے مرد عورت کی زناکاری کی سزا ہے کیونکہ قرآنِ کریم سورہ نساء آیت ۲۶ سے اس کی تطبیق ممکن نہیں۔اس آیت میں شادی شدہ بے حیائی کی مرتکب لونڈی ہو تو اس کی سزا نصف بیان کی گئی ہے۔یعنی پچاس کوڑے۔یہ نصف سزا ان کی غلامی کی وجہ سے ہے اس کا مطلب ہے کہ آزاد عورتوں کی سزا پوری یعنی سو کوڑے ہے۔اور ظاہر ہے رجم کا نصف ممکن نہیں پس قرآنِ کریم کی سورہ نورآیت ۳ اور سورہ نساء آیت ۲۶ سے یہ بات بپایہ ثبوت پہنچتی ہے کہ اسلام نے زنا کاری کی سزا سو کوڑے رکھی ہے نہ کہ رجم۔رجم کی سزا بائیبل کی تعلیم اور یہود میں جاری دستور کا نتیجہ تھی جسے اسلام نے سو کوڑوں میں بدل دیا جو روایات اس کے برعکس ہیں وہ قطعا قابل قبول نہیں چاہے وہ بخاری میں ہوں یا مسلم میں یا دیگر کتب احادیث میں، سوائے اس کے کہ ان کے معنے قرآنِ کریم کی آیات کے مطابق کیے جائیں یا اُن کو تاریخی واقعات سے حل کیا جائے۔اور یہ ثابت کیا جائے کہ جن لوگوں کو رجم کیا گیا تھا ان کا تعلق اہل کتاب سے تھا اور اگر یہ سزا کسی مسلمان کو دی گئی ہے تو وہ سورہ نور کے نزول سے پہلے کی ہے۔اس پر ایک تفصیلی نوٹ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زانیہ عورت اور زانی مرد میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے لگاؤ اور اس حکم الہی کو سر انجام دینے کے سلسلہ میں تمہارے دل میں کوئی نرمی پیدا نہ ہو بلکہ سزا دیتے وقت کچھ اور مؤمنوں کو بھی بلا لیا کرو۔قرآن کریم کی اس آیت سے بالبداہت ثابت ہے کہ زانی مرد اور زانیہ عورت کی سزا ایک سو ۱۰۰ کوڑے ہیں۔اور سورۃ نساء رکوع ۴ میں آتا ہے کہ یہ سزا ان عورتوں اور مردوں کے لئے ہے جو آزاد ہوں۔جو عور تیں آزاد نہ ہوں ان کی سزا بد کاری کی صورت میں نصف ہے یعنی پچاس کوڑے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَإِذَا أَحْصِنَ فَإِنْ آتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَتِ مِنَ الْعَذَابِ (النساء : ٢٢) یعنی جب وہ عورتیں جو آزاد نہ ہوں دوسروں کے نکاح میں آجائیں تو اگر وہ کسی قسم کی بے حیائی کی مرتکب ہوں تو ان کی سزا آزاد عورتوں کی نسبت نصف ہو گی۔اس آیت سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ مقررہ سزا ایسی ہے جو نصف ہو سکتی ہے۔اور سو کوڑوں کی نصف سزا پچاس کوڑے بن جاتی ہے۔لیکن بعض لوگ اس آیت کے متعلق یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ سزا بعد میں رسول کریم ملی ایم نے رجم کی شکل میں بدل دی تھی۔یعنی آپ نے یہ حکم دیا تھا کہ بجائے اس کے کہ کوڑے مارے جائیں رحم کرنا چاہئے۔لیکن ظاہر ہے کہ اگر یہ معنی کیے جائیں تو نہ صرف محولہ بالا