صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 639
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۳۹ ۸۶ - كتاب الحدود بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ کی۔انہوں نے کہا: ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمْ أَتَى مجھے بتایا۔ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبد اللہ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انصاری سے روایت کی کہ اسلم قبیلہ کا ایک شخص فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ قَدْ زَنَى فَشَهِدَ عَلَى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ نے آپ سے بیان کیا کہ اُس نے زنا کیا ہے اور اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُحِمَ چار بار اپنے متعلق یہ اقرار کیا۔تو رسول اللہ صلی اللہ وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ۔علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اُسے سنگسار کیا گیا اور وہ شادی شدہ تھا۔أطرافه: ۰۲۷۰، ٥۲۷۲، ٦٨١٦ ، ٦٨٢٠، ٦٨٢٦، ٧١٦- تشریح رنجم المُحْصَنِ: شادی شده ( زناکار کو سنگسار کرنا۔اسلام نے جن جرائم کی سزا مقرر کی ہے ان میں زناکاری بھی ہے۔سزا کے لیے مجرم کا اقبالِ جرم یا شہادتوں سے جرم ثابت ہو ناضروری ہے۔زنا کے جرم کے لیے اسلام نے چار گواہوں کی شرط رکھی ہے۔اگر یہ شرط پوری نہ ہو تو ملزم کو سزا نہیں دی جا سکتی بلکہ الزام لگانے والے سزا پائیں گے زنا کا جرم ثابت ہونے پر اس کی سزا سو کوڑے مقرر کی گئی ہے۔مگر بعض لوگ رجم کی سزا کے قائل ہیں اور وہ اپنی تائید میں بعض روایات پیش کرتے ہیں یہاں تک کہ حضرت عمر کے بعض اقوال کو جو بخاری میں ہیں اُن کو پیش کر کے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلام میں زنا کی سزار حجم ہے۔عنوانِ باب کے الفاظ رنجم الْمُحْصَنِ اور زیر باب روایت ۶۸۱۲ میں حضرت علی کے متعلق ذکر ہے کہ اُنہوں نے ایک عورت کو رجم کیا اور کہا میں نے اسے سنتِ رسول کے مطابق سنگسار کیا ہے نیز ابواب ۲۲ تا ۲۵ میں بھی رجم کا ذکر ہے اِن ابواب اور ان کے ذیل کی احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں زنا کاری کی سز ارحم ہے۔اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد حضرت علی کے زمانہ خلافت تک عمل ہو تا رہا۔ان روایات کے پیش نظر جو بخاری مسلم اور دیگر کتب احادیث میں بیان ہوئی ہیں محدثین اور شارحین نے دو طرح کی بحث کی ہے۔اول رجم کی سزا کے واقعات سوره نور آیت ۳ سے پہلے کے ہیں جس میں سو کوڑوں کی سزا بیان کی گئی ہے مگر تاریخ اسلام میں ان واقعات کی جو تفصیل ملتی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض واقعات سورہ نور کی آیت کے نزول کے بعد کے بھی ہیں جیسا کہ زیر باب روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضرت علی نے زنا کرنے والی عورت کو رجم کی سزا دی۔پس سورہ نور کی اس آیت سے پہلے کا یہ واقعہ نہیں ہو سکتا۔ان روایات اور قرآن کریم کی سورہ نور آیت ۳ میں تطبیق کے لیے شارحین نے ایک یہ راہ نکالی ہے کہ سورہ نور میں بیان فرمودہ زنا کی سزا سو کوڑے غیر شادی شدہ مرد عورت کے لیے ہے جبکہ رجم کی سز ا شادی شدہ زناکار کی ہے مگر یہ جواز بھی ان روایات کو قرآنِ کریم کے موافق بنانے میں ناکام رہا۔قرآن کریم