صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 40 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 40

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰- كتاب الدعوات میں انسان سوتا ہے عام طور پر وہی حالت ساری رات اس پر گزرتی رہتی ہے۔اس لئے جو شخص تسبیح و تحمید کرتے سوئے گا، گویا ساری رات اسی میں لگا رہے گا۔دیکھو عور تیں یا بچے اگر کسی غم اور تکلیف میں سوئیں تو سوتے سوتے جب کروٹ بدلتے ہیں تو دردناک اور غمگین آواز نکالتے ہیں۔کیونکہ اس غم کا جو سوتے وقت ان کو تھا ان پر اثر ہوتا ہے۔لیکن اگر کوئی تسبیح کرتے سوئے گا تو جب کروٹ بدلے گا اس کے منہ سے تسبیح کی آواز ہی نکلے گی۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن وہ ہوتے ہیں کہ تتجافى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَ طَبَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (السجدة : (۱) یعنی ان کے پہلو بستروں سے اُٹھے رہتے ہیں اور وہ خوف اور طمع سے اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے اُن کو دیا ہے، اس سے خرچ کرتے ہیں۔بظاہر تو یہ بات درست نہیں معلوم ہوتی۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوتے تھے اور دوسرے سب مومن بھی سوتے ہیں۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ چونکہ وہ تسبیح کرتے کرتے سوتے ہیں، اس لئے ان کی نیند نیند نہیں ہوتی بلکہ تسبیح ہی ہوتی ہے اور اگر چہ وہ سوتے ہیں مگر در حقیقت سوتے نہیں۔ان کی کمریں بستروں سے الگ رہتی ہیں اور وہ خدا کی یاد میں مشغول ہوتے ہیں۔“ (ذکر الہی، انوار العلوم جلد ۳ صفحه ۵۱۳) باب ۱۳ ا ٦٣٢٠ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۶۳۲۰: احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ نے ہمیں بتایا۔عبید اللہ بن عمر نے ہم سے بیان کیا عُمَرَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ کہ سعید بن ابی سعید مقبری نے مجھے بتایا۔سعید الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اله علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَنْقُضْ بچھونے پر آرام کرنے لگے تو چاہیے کہ وہ اپنے فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا بچھونے کی چادر کو اندر کے حصے سے جھاڑ لے کیونکہ