صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 39
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۹ ۸۰ - كتاب الدعوات صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ مَضْجَعَهُ نَفَثَ فِي يَدَيْهِ وَقَرَأَ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹنے لگتے تو اپنے بِالْمُعَوَّذَاتِ وَمَسَحَ بِهِمَا جَسَدَهُ۔دونوں ہاتھوں میں پھونکتے اور معوذات کو پڑھتے اور دونوں ہاتھوں کو اپنے جسم پر پھیرتے۔أطرافه: ٥٠١٧، ٥٧٤٨ ح : التَّعْوذُ وَ الْقِرَاءَةُ عِنْدَ الْمَنَامِ : سونے کے وقت شیطان سے پناہ مانگنا اور قرآن پڑھنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ آپ رات کو بستر پر لیٹتے تو تین دفعہ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھتے ، دونوں ہاتھوں پر پھونکتے اور ہاتھوں کو جسم پر ملتے۔سوتے وقت آیتہ الکرسی پڑھنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ آپ نے سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب سونے لگے تو کوئی ذکر کر کے سوئے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ رات کو ذکر کرنے کے لئے پھر اُس کی آنکھ کھل جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی سونے سے پہلے یہ ذکر کیا کرتے تھے۔آیت الکرسی پھر تینوں قُل ایک ایک دفعہ پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونکتے اور ہاتھ سارے جسم پر پھیرتے اور ایسا تین دفعہ کرتے تھے اور پھر دائیں طرف منہ کر کے یہ عبارت پڑھتے : اللَّهُم أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَهُتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِى إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْت۔(ترمذى، كتاب الدعوات، باب ما جاء فى الدعاء اذا أوى إلى فراشه) اسی طرح ہر ایک مومن کو چاہیئے۔اور پھر چارپائی پر لیٹ کر دل میں سُبحان اللهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ یا کوئی اور ذکر جاری رکھنا چاہیئے حتی کہ اس حالت میں آنکھ لگ جائے کیونکہ جس حالت (بخاری، کتاب فضائل القرآن، روایت نمبر ۵۰۱۷) (بخاری، کتاب فضائل القرآن، روایت نمبر ۵۰۱۰) (بخاری، کتاب فضائل القرآن، روایت نمبر ۵۰۰۹)