صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 627
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۲۷ ۸۶ - كتاب الحدود باہر اس چرا گاہ میں چلے گئے جہاں مسلمانوں کے اونٹ رہتے تھے۔ جب ان بد بختوں نے یہاں اپنا ڈیرا جمالیا اور آگے پیچھے نظر ڈال کر سارے برا جمالیا اور آگے پیچھے حالات معلوم کر لئے اور کھلی ہوا میں رہ کر اور اونٹوں کا دودھ پی کر خوب موٹے تازے ہو گئے تو ایک دن اچانک اونٹوں کے رکھوالوں پر حملہ کر کے انہیں مار دیا اور مارا بھی اس بے دردی سے کہ پہلے تو جانوروں کی طرح ذبح کیا اور پھر جب ابھی کچھ جان باقی تھی تو ان کی زبانوں میں صحرا کے تیز کانٹے چھوئے تا کہ جب وہ منہ سے کوئی آواز نکالیں یا پیاس کی وجہ سے تڑپیں تو یہ کانٹے ان کی تکلیف کو اور بھی بڑھا دیں۔ اور پھر ان ظالموں نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ گرم سلائیاں لے کر ان نیم مردہ مسلمانوں کی آنکھوں میں پھیریں۔ اور اس طرح یہ بے گناہ مسلمان کھلے میدان میں تڑپ تڑپ کر جان بحق ہو گئے۔ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ذاتی خادم بھی تھا جس کا نام بیسار تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے چرانے پر مقرر تھا۔ جب یہ درندے اس وحشیانہ رنگ میں مسلمانوں کا کام تمام کر چکے تو پھر سارے اونٹوں کو اکٹھا کر کے انہیں ہنکالے گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ حالات ایک رکھوالے نے پہنچائے جو اتفاق سے بچ کر نکل آیا تھا جس پر آپ نے فوراً نہیں صحابہ کی ایک پارٹی تیار کر کے ان کے پیچھے بھجوادی اور گو یہ لوگ کچھ فاصلہ طے کر چکے تھے مگر خدا کا یہ فضل ہوا کہ مسلمانوں نے پھرتی کے ساتھ پیچھا کر کے انہیں جا پکڑا اور رسیوں سے باندھ کر واپس لے آئے۔ اس وقت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ احکام نازل نہیں ہوئے تھے کہ اگر کوئی شخص اس قسم کی حرکت کرے تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے چنانچہ آپ نے اپنے قدیم اصول کے ماتحت کہ جب تک اسلام میں کوئی نیا حکم نازل نہ ہو اہل کتاب کے طریق پر چلنا چاہئے۔ موسوی شریعت کے مطابق حکم دیا کہ جس طرح ان ظالموں نے مسلمان رکھوالوں کے ساتھ سلوک کیا ہے اسی طرح قصاصی اور جوابی صورت میں ان کے ساتھ کیا جائے۔ تاکہ یہ سزا دوسروں کے لئے عبرت