صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 626
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۲۶ ۸۶ - کتاب الحدود ارتداد کی وجہ سے سزادی جاتی ہے۔نہ حضرت انس جو اس واقعہ کے راوی ہیں بیان کرتے ہیں کہ ان کو ارتداد کی وجہ سے سزا دی گئی یا اس سزا میں ان کے ارتداد کا کچھ دخل تھا۔بلکہ روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو ان کے وحشیانہ جرائم کی سزادی گئی۔تاریخ واقعہ سے تو ہمارا دعویٰ ثابت ہوتا ہے نہ کہ حامیان قتل مرتد کا۔ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی فرد کو بھی محض ارتداد کی وجہ سے کوئی سزا نہیں دی اگر دی ہے تو ارتداد کی وجہ سے نہیں بلکہ دیگر وجوہات سے۔اور جو واقعہ ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے اس سے ہمارے ہی دعویٰ کی تائید ہوتی ہے نہ کہ حامیان قتل مرتد کی۔کیونکہ یہاں جن لوگوں کو قتل کیا گیا ان کے وہ جرائم صراحت کے ساتھ مذکور ہیں جن کی وجہ سے ان کو سزا دی گئی۔پس یہ واقعہ ہماری تائید میں ہے نہ حامیان قتل مرتد کی تائید میں۔“ ( قتل مرتد اور اسلام صفحہ ۱۹۰ تا ۱۹۴) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: شوال ۶ ہجری میں قبیلہ شکل اور عرینہ کے چند آدمی جو تعداد میں آٹھ تھے۔مدینہ میں آئے اور اسلام کے ساتھ محبت اور موانست کا اظہار کر کے مسلمان ہو گئے۔کچھ عرصہ کے قیام کے بعد انہیں مدینہ کی آب و ہوا میں معدہ اور تہ ہ تلی وغیرہ کی جو کچھ شکایت پید ا ہوئی تو وہ اسے بہانہ بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی تکلیف بیان کر کے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہم لوگ ہیں اور جانوروں کے ساتھ رہنے میں عمر گزاری ہے اور شہری زندگی کے عادی نہیں اس لئے بیمار ہو گئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہیں یہاں مدینہ میں تکلیف ہے تو مدینہ سے باہر جہاں ہمارے مویشی رہتے ہیں وہاں چلے جاؤ اور اونٹوں کا دودھ وغیرہ پیتے رہو۔اچھے ہو جاؤ گے۔اور ایک روایت میں یہ ہے کہ انہوں نے خود کہا کہ یا رسول اللہ اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم مدینہ سے باہر جہاں آپ کے مویشی رہتے ہیں وہاں چلے جاتے ہیں جس کی آپ نے اجازت دے دی۔بہر حال وہ آنحضرت سے اجازت لے کر مدینہ سے