صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 628 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 628

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۲۸ ۸۶ - کتاب الحدود ہو۔چنانچہ خفیف تغیر کے ساتھ اسی رنگ میں مدینہ سے باہر کھلے میدان میں ان لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔مگر اسلام کے لئے خدا نے دوسری تعلیم مقدر کر رکھی تھی چنانچہ آئندہ جوابی اور قصاصی صورت میں بھی مثلہ کی سزا منع کر دی گئی یعنی اس بات کو ناجائز قرار دیا گیا کہ کسی رنگ میں مقتول کے جسم کو بگاڑا جائے یا انتقامی رنگ میں اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے وغیر ذالک۔اس واقعہ کے متعلق ہمیں کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بہر حال اس معاملہ میں ظلم کی ابتداء کفار کی طرف سے تھی جنہوں نے بغیر کسی جائز وجہ کے محض اسلام کی عداوت میں بے گناہ مسلمانوں کے ساتھ اس قسم کا ظالمانہ اور وحشیانہ سلوک کیا اور جو کچھ ان کی سزا میں کیا گیا وہ محض قصاصی اور جوابی تھا اور تھا بھی ایسے حالات میں جب کہ اسلام کے خلاف سارا ملک دشمنی اور عداوت کی آگ سے بھڑک رہا تھا۔اور پھر یہ فیصلہ بھی موسوی شریعت کے مطابق کیا گیا تھا، لیکن پھر بھی اسلام نے اسے برقرار نہیں رکھا اور آئندہ کے لئے ایسے طریق سے منع کر دیا۔ان حالات میں کوئی عقل مند اس پر اعتراض نہیں کر سکتا۔اس موقع پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ لوگ شروع سے ہی بری نیت کے ساتھ مدینہ میں آئے تھے اور غالباً اپنے قبیلہ کے سکھائے ہوئے تھے کہ تا مسلمانوں میں رہ کر انہیں نقصان پہنچائیں اور ممکن ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھی ان کا کوئی برا ارادہ ہو مگر جب مدینہ میں رہ کر انہیں کوئی موقع نہیں ملا تو انہوں نے یہ تجویز کی کہ مدینہ سے باہر نکل کر کارروائی کی جاوے۔ان کی اس نیت کا اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے چرواہوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ خالی چوروں اور لیٹروں والا سلوک نہیں تھا بلکہ سراسر منتقمانہ رنگ رکھتا تھا۔اگر وہ ابتداء میں سچے دل سے مسلمان ہوئے تھے اور بعد میں اونٹ دیکھ کر ان کی نیت بدل گئی تو اس صورت میں ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ اونٹ لے کر بھاگ جاتے اور اگر کوئی رکھوالا روک بنتا تو زیادہ سے زیادہ اسے مار کر نکل جاتے مگر جس رنگ میں انہوں نے مسلمان چرواہوں کو قتل کیا اور اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر قتل