صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 625 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 625

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۲۵ ۸۶ - کتاب الحدود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہوں سے یہی سلوک کیا تھا اور ان کی آنکھوں میں گرم لوہے کی سلائیاں پھیری تھیں۔۳۔ابوداؤد کے حاشیہ پر بحوالہ لمعات لکھا ہے۔انما فعل صلعم قصاصا لانهم كذلك فعلوا بالرعاة فانه قد روى انهم سملوا اعين الرعاة وقطعوا أيديهم وارجلهم وغرزوا الشوك في الْسِنَتِهِمْ وَأَعْيُنِهِمْ حَتَى مَاتُوا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ ان سے سلوک کیا وہ قصاص کے طور پر کیا کیونکہ یہ روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری تھیں، ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹا تھا اور ان کی زبانوں اور آنکھوں میں کانٹے گاڑے تھے یہاں تک کہ وہ اس عذاب کو سہتے سہتے مر گئے۔۴۔روح المعانی جلد ۲ صفحہ ۱۴۸ پر لکھا ہے۔وقیل: هم العرنيون الذين أغاروا على السرح وأخذوا يسارا راعي رسول الله ومثلوا به فقطعوا يديه ورجليه وغرزوا الشوك في لسانه وعينيه حتى مات۔کہا گیا ہے کہ وہ عرفی لوگ تھے جنہوں نے چرنے والے اونٹوں پر ڈاکہ مارا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے بیسار کو پکڑا اور قتل کرنے سے پہلے اس کا مثلہ کیا۔اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹ ڈالے اور اس کی زبان میں اور اس کی دونوں آنکھوں میں کانٹے گاڑے یہاں تک کہ وہ اس تکلیف کی وجہ سے مر گیا۔ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان لوگوں سے چار فعل سرزد ہوئے۔(۱) قطع ایدی (۲) قطع رجل (۳) سمل اعين (۴) غرز الشوك آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا دیتے وقت تین سزائیں دیں یعنی ہاتھوں کا کاٹنا، پاؤں کا کاٹنا، آنکھوں میں سلائی پھیرنا۔ان کے چوتھے فعل کی سزا نہیں دی گئی یعنی ان کی زبانوں میں کانٹے نہیں گاڑے گئے۔تعجب ہے کہ حامیان قتل مرتد کھڑے تو اس لیے ہوئے تھے کہ ثابت کریں کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے لیکن ثبوت میں ایسے لوگوں کی مثال پیش کی جنہوں نے ایک جرم کا نہیں بلکہ کئی جرموں کا ارتکاب کیا اور ارتکاب بھی نہایت ہی وحشیانہ طور پر۔کسی روایت میں یہ درج نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو کہ ان کو