صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 624 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 624

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۲۴ ۸۶ - کتاب الحدود دینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اسلام لا کر پھر مرتد ہو گئے تھے اس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر سخت غصہ آیا۔واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ عکل کے لوگوں کو یہ سخت سزا اس لیے نہیں دی گئی تھی کہ انہوں نے ارتداد اختیار کیا تھا بلکہ اس سختی کی اصل وجہ ان کے جرائم کی وحشیانہ کیفیت تھی۔مگر حامیان قتل مرتد اس سختی کو ان کے ارتداد کی طرف منسوب کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تنگ ظرف اور تنگ خیال ملا کی شکل میں پیش کرتے ہیں کہ آپ (نعوذ باللہ ) اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی شخص آپ کے مذہب کو ایک دفعہ قبول کر کے پھر اس کو ترک کر دے۔اس وجہ سے آپ کا غضب عکل کے لوگوں کے خلاف بھڑ کا اور آپ نے سادہ قتل پر اکتفانہ کیا بلکہ سخت عذاب دے کر ان کو مارا اور سخت عذاب دینے کی اصل وجہ ان کا ارتداد ہی تھا۔افسوس ہے ان لوگوں پر کہ کس طرح یہ لوگ اپنے نفسانی جذبات کی پیروی کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قابل اعتراض پیرایہ میں پیش کرنے سے باز نہیں آتے۔جس وحشیانہ رنگ میں عکل کے لوگوں نے ان جرائم کا ارتکاب کیا وہ ہر ایک انصاف پسند انسان کے نزدیک ان کو اس عبرتناک سزا کا مستحق بنانے کیلئے کافی سے بھی زیادہ ہے اور اس امر کی ہرگز ضرورت نہیں کہ ان کی سختی کو ان کے ارتداد کی طرف منسوب کیا جائے لیکن اگر حامیان قتل مرتد کو اس سے تسلی نہیں ہوتی تو میں عکل کے لوگوں کے متعلق کچھ مزید جواب ذیل میں درج کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان حوالجات کے بعد لوگوں کو تشفی ہو جائے گی۔ا۔ابو داؤد میں آیا ہے کہ انہوں نے صرف ایک چرواہے کو قتل نہیں کیا تھا بلکہ وہ چرواہے کئی تھے جنہیں قتل کیا گیا۔۲۔مسلم ، ترمذی، نسائی اور دار قطنی میں حضرت انسؓ کی روایت ہے۔إِثْمَا سَمَل النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَ أُولَئِكَ لِأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرُّعَاةِ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی آنکھوں میں اس لیے گرم لوہے کی سلائی پھر وائی تھی کہ انہوں نے