صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 623 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 623

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۲۳ ۸۶ - کتاب الحدود حدیث ہمیں کیا بتلاتی ہے ؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے اس لیے آدمی دوڑائے تھے کہ وہ اسلام سے منحرف ہو گئے تھے اور اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ ان کو پکڑ کر امداد کی عبرتناک سزادی جائے تا آئندہ کوئی شخص اسلام قبول کرنے کے بعد ارتداد کا خیال نہ کرے؟ یا اس لیے ان کے پیچھے آدمی بھیجے تھے کہ انہوں نے ایسی شرارت کی کہ اس کو سن کر بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔وہ بیمار تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر احسان کیا۔شیر دار اونٹنیاں دیں کہ وہ ان کا دودھ پیس مگر وہ ایسے خبیث باطن اور بد معاش تھے کہ انہوں نے اس احسان کا یہ بدلہ دیا کہ جب تندرست ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آدمیوں کو قتل کر دیا اور اونٹوں کولے کر بھاگ گئے۔میں نہیں سمجھ سکتا اس سے بد تر کیا شرارت ہو سکتی ہے حیوانوں پر بھی احسان کا اثر ہوتا ہے۔بھیڑیوں اور درندوں پر بھی احسان کرو وہ بھی احسان کا احساس رکھتے ہیں، کہتے بھی اپنے محسن کیلئے جان قربان کر دیتے ہیں۔۔۔وہ لوگ جن کا حدیث مذکورہ بالا میں ذکر ہے انسانیت کے تمام احساسات سے ہی خالی نہ تھے بلکہ درندوں سے بھی بدتر ثابت ہوئے۔انہوں نے نہ صرف ایک انسان کو قتل کیا اور ڈاکہ مارا بلکہ اپنے محسن کا کھلم کھلا مقابلہ کیا اور حَارَبُوا اللهَ وَرَسُولَهُ کا اپنے تیں مصداق ثابت کیا۔اس لیے وہ اس قابل تھے کہ ان کو حسب فحوائے آیت کریمہ۔۔۔یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور فساد کی غرض سے ملک میں جنگ کی آگ بھڑکانے کیلئے دوڑتے پھرتے ہیں ان کی مناسب سزا یہی ہے کہ ان میں سے ایک ایک کو قتل کیا جائے یا صلیب پر لٹکا کر مارا جائے یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیئے جائیں یا انہیں ملک سے نکال دیا جائے۔اگر یہ سزا ملتی تو ان کے لیے دنیا میں رسوائی کا موجب ہوتی اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب مقدر ہے۔قتل کی سزا ایک عبرتناک رنگ میں دی جاتی مگر حامیان قتل مرتد کی رائے ہے کہ ان کا فعل اس قابل نہ تھا کہ ان کو ایسی سخت سزا دی جاتی۔ان کو ایسی عبرتناک سزا