صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 38 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 38

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۸ ٨٠ - كتاب الدعوات لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام لینے کی درخواست کی مگر آپ نے ان کو غلام دینے کی بجائے تسبیحات پڑھنے کی نصیحت فرمائی۔ اس سے آپؐ نے اپنی آل کو اور اپنے پیاروں کو یہ درس دیا کہ دنیا کی ان عارضی تکالیف کی بجائے آخرت کی تکالیف سے بچنے کی فکر کرنی چاہئیے اور اس نصیحت کو آپ نے عملی رنگ میں اپنی ذات میں بھی اور اپنی آل میں بھی ایک قابل تقلید نمونہ کے طور پر قائم فرمایا اور بطور سربراہ مملکت آپ نے یہ بھی مثال قائم کی کہ سربراہ کو اور اس کے خاندان کو اپنی ضروریات پر دوسروں کی ضروریات کو ترجیح دینی چاہئیے۔ یہ ایثار کی وہ عملی تصویر ہے جسے قرآن کریم نے وَ يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ (الحشر : ۱۰) میں بیان فرمایا ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل میں یہ ذکر بھی ملتا ہے کہ آپ ان غلاموں کو بیچ کر اس رقم سے اہل صفہ و دیگر قومی اخراجات کے لئے رقم کو سرف کرنا چاہتے تھے۔ کے ایک حدیث میں یہ ذکر ہے کہ آپؐ شہدائے بدر کے بچوں کے لئے ان غلاموں کو بیچنے کا فیصلہ فرما چکے تھے۔ ہے اور آپ نے یہ عظیم الشان نمونہ پیش فرمایا کہ قوم کے راہنما اور اس کے اہل خانہ کو اپنی ضروریات پر قوم کی ضروریات کو ترجیح دینی چاہیئے۔ علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں کہ اگر یہ سوال ہو کہ تسبیح پڑھنا خادم سے کس طرح بہتر ہو گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ تسبیحات اور ذکر الہی آخرت میں راحت کا باعث بنے گا جبکہ خادم کے ملنے سے دنیا کی راحت ملے گی تو آخرت کی راحت دنیا کے مقابل زیادہ بہتر ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحه ۳۶) حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: اس واقعہ میں یہ بھی ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان غلاموں کو بیچ کر اہل صفہ کی ضرورتیں پوری کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے آپ نے اہل صفہ کی ضرورت کو اپنی بیٹی کی ضرورت پر ترجیح دی۔ ( فتح الباری جزءا ا صفحه ۱۴۵) باب ۱۲: التَّعَوُّذُ وَالْقِرَاءَةُ عِنْدَ الْمَنَامِ سونے کے وقت شیطان سے پناہ مانگنا اور قرآن پڑھنا ٦٣١٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۶۳۱۹ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عقیل نے مجھے ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ بتایا۔ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ نے کہا: عروہ نے مجھے خبر دی۔ عروہ نے حضرت ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور خود اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے۔“ (مسند احمد بن حنبل، مسند علی بن أبي طالب، جزء ا صفحه ۱۰۶) (سنن ابي داؤد، كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْقَيْءِ ، بَاب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ، وَسَهُم ذِي الْقُرْبَى، روایت نمبر ۲۹۸۷)